.

عراق اور لبنان میں قاسم سلیمانی کے "دہشت گرد" ایجنٹ کون ہیں ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت خزانہ میں غیر ملکی اثاثوں پر نظر رکھنے والے بیورو (OFAC) نے منگل کے روز "حزب الله" سے تعلق رکھنے والے چار افراد کو بین الاقوامی دہشت گرد قرار دیا۔ یہ لوگ ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے کمانڈر قاسلم سلیمانی کے حکم پر عراق میں انٹیلی جنس اور مالیاتی امور سے متعلق کارروائیوں اور مختلف سرگرمیوں کی قیادت کر رہے ہیں۔

امریکی بیورو کی جانب سے جاری بیان کے مطابق شبل محسن عبيد الزيدی، ويوسف هاشم، عدنان حسين كوثرانی اورمحمد عبد الهادی فرحات کو ایگزیکٹو آرڈر 13224 کے تحت عالمی دہشت گرد قرار دیا گیا ہے۔ مذکورہ آرڈر میں دہشت گردوں کو اور دہشت گردوں اور دہشت گردی کی سپورٹ کرنے والوں کو ہدف بنایا گیا ہے۔

امریکی وزارت خزانہ میں دہشت گردی اور فنڈنگ انٹیلی جنس کے امور کے سکریٹری سیگل مینڈلکر کے مطابق "حزب اللہ دہشت گردی پھیلانے میں ایرانی ایجنٹ کا کردار ادا کر رہی ہے۔ یہ عراق کی سیادت کو سبوتاژ کرنے اور مشرق وسطی کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ ہم دہشت گردی کے سہولت کاروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان میں الزیدی جیسے لوگ ہیں جو ایران کے لیے تیل کی اسمگلنگ کر رہے ہیں، حزب اللہ کے لیے فنڈنگ جمع کر رہے ہیں اور قاسم سلیمانی کی طرف سے ایرانی پاسداران انقلاب کے واسطے جنگجوؤں کو شام بھیج رہے ہیں"۔

یہ اقدامات Hezbollah International Financing Prevention Act (HIFPA) کے تحت عمل میں لائے جا رہے ہیں جو 25 اکتوبر کو باقاعدہ قانون کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ امریکی وزارت خزانہ کے اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ "حزب اللہ" دہشت گردی کے حوالے سے ایرانی نظام کے خفیہ ونگ ہونے کی حیثیت سے کس حد تک خطرناک ہے۔

شبل الزيدی

شبل الزیدی ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کے ایجنٹ کا کردار ادا کر رہا ہے۔ وہ 2014ء میں عراقی شیعہ رہ نما مقتدی الصدر کی "جیش المہدی" سے منحرف ہونے کے بعد سے عراقی "الامام علی" بریگیڈز کے سکریٹری جنرل کے طور پر کام کر رہا ہے۔ امریکی وزارت خزانہ کے مطابق الزیدی ایرانی پاسداران انقلاب اور عراق میں فرقہ وارانہ مسلح جماعتوں کے درمیان مالی رابطہ کار کی حیثیت سے ذمّے داری انجام دے چکا ہے۔ اس نے قاسم سلیمانی کی طرف سے عراقی سرمایہ کاری کو آسان بنایا۔ سلیمانی کو اکتوبر 2011ء میں امریکی وزارت خزانہ نے دہشت گردوں سے متعلق اپنی فہرست میں شامل کیا تھا۔ الزیدی عراق اور شام کے مختلف علاقوں میں کم از کم چار مرتبہ اعلانیہ طور پر قاسم سلیمانی کے ساتھ ظاہر ہو چکا ہے۔ امریکی وزارت خزانہ میں غیر ملکی اثاثوں پر نظر رکھنے والے بیورو (OFAC) کے ایک بیان کے مطابق الزیدی نے حزب اللہ کے عہدے داران اور حزب اللہ کے مالیاتی امور کے ذمّے دار 'ادهم طباجہ' کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کیے۔

علاوزہ ازیں اس نے بھاری مالی رقوم طباجہ کو منتقل کیں۔ طباجہ کو امریکی وزارت خزانہ نے 6 جون 2015ء کو زیر پابندی شخصیات کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ امریکی وزارت خزانہ کے مطابق "الامام علی" بریگیڈز کی تاسیس کے بعد سے شبل الزیدی نے مرکزی طور پر عراق میں ہی کام کیا ،،، تاہم اس نے جنگجوؤں کو شام بھی بھیجا اور بریگیڈز کے ارکان نے ایران میں اور لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ تربیت حاصل کی۔

يوسف ہاشم

یوسف ہاشم عراق میں حزب اللہ کی سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے۔ وہ عراق میں حزب اللہ کے مفادات کے تحفظ کا ذمّے دار ہے اور عراق میں طباجہ کی حفاظت کی ذمّے داری بھی ہاشم کے سپرد ہے۔ ہاشم حزب اللہ کے عراق میں فرقہ وارانہ مسلح جماعتوں کے ساتھ تعلقات کو چلاتا رہا ہے۔ اس میں جنگجوؤں کے شام بھیجے جانے میں رابطہ کاری شامل ہے۔

عدنان حسين كوثرانی

کوثرانی کو حزب اللہ کے لیے مالی، مادی اور ٹکنالوجی خدمات پیش کرنے میں اہم کردار ادا کرنے پر عالمی دہشت گرد قرار دیا گیا ہے۔ کوثرانی نے عراق میں حزب اللہ کے تجارتی معاملات کو آسان بنایا۔ وہ عراق میں فرقہ وارانہ مسلح جماعتوں اور حزب اللہ کے عہدے داران کے ساتھ ملاقاتوں میں موجود رہا۔ وہ اپنے بڑے بھائی اور حزب اللہ کے ایک اہم رکن محمد کوثرانی کے دست راس کے طور پر کام کرتا رہا جس کو امریکی وزارت خزانہ نے اگست 2013ء میں دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ علاوہ ازیں عدنان کوثرانی عراقی فرقہ وارانہ مسلح جماعتوں کو تربیت، فنڈنگ اور سیاسی اور لوجسٹک سپورٹ بھی فراہم کرتا رہا ہے۔

محمد عبدالہادی فرحات

فرحات کو عراق میں حزب اللہ کی طرف سے مسلح فرقہ وارانہ جماعتوں کے لیے مشیر کا کردار ادا کرنے پر امریکی وزارت خزانہ کی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ وہ 2017ء سے عراق میں سکیورٹی اور انٹیلی جنس معلومات اکٹھا کرنے اور حزب اللہ کے سینئر قائدین اور ایرانی قیادت کو رپورٹیں پیش کرنے پر مامور ہے۔ فرحات عراق کی سکیورٹی صورت حال کے تجزیے کے منصوبے اور اس بارے میں رپورٹ تیار کرنے میں بھی شریک رہا ، یہ رپورٹ حزب اللہ اور پاسداران انقلاب کی القدس فورس کو پیش کی گئی تھی۔