.

غزہ میں کشیدگی، خطرے کے بادل پھر منڈلانے لگے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطین کے محصور علاقے غزہ کی پٹی میں حالات کو پرسکون رکھنے کی کوششوں کے باوجود خطرے کے بادل مسلسل مڈلا رہے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے آج جمعہ کے روز غزہ کی پٹی کی شمالی اور مشرقی سرحد پر فلسطینیوں کے پرتشدد مظاہروں سے سختی سے نمٹنے کی دھمکی دی ہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان "افیحائی ادرعی" نے جمعرات کو "ٹوئٹر"پرپوسٹ کردہ ایک بیان میں کہا کہ جمعہ کے روز غزہ کی سرحد پر مظاہرے کرنے والے فلسطینی نتائج کے خود ذمہ دار ہوں گے۔

صہیونی فوجی ترجمان کا یہ دھمکی آمیز بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری جانب اسرائیل کی مسلح افواج کے سربراہ نے کہا ہے کہ فوج غزہ میں جنگ کے لیے تیار ہے۔ دوسری جانب حماس نے بھی خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کو غزہ کی پٹی پرجارحیت مسلط کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حماس کا کہنا ہے کہ غزہ کی سرحد پر حق واپسی مظاہرے جاری رہیں گے۔

مصری وفد کی جنگ بندی پر بات چیت کے لیے غزہ آمد

مصر کی جنرل انٹیلی جنس کا ایک اعلیٰ سطحی وفد جمعرات کو غزہ پہنچا۔ مصری وفد کی آمد کا مقصد غزہ حماس کی قیادت کے ساتھ جنگ بندی کے معاملے پربات چیت اور فلسطینی دھڑوں میں مصالحتی عمل کو آگے بڑھانا ہے۔ یہ وفد غزہ میں حماس کے علاوہ دیگر جماعتوں کی قیادت سے بھی ملاقات کرے گا۔

جمعرات کو فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے کہا تھا کہ وہ فلسطینی قوم کو وحشیانہ قتل عام سے بچانے کی ہرممکن کوشش کررہے ہیں اور اسرائیل کو بار بار غزہ کے عوام کی زندگیوں سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

صدرعباس نے غزہ کی پٹی میں غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کے حملوں پر تنقید کی اور غزہ میں جارحیت کے ذمہ داری صہیونی ریاست پرعاید کی ہے۔