.

اقوام متحدہ نے یمن کے متحارب فریقین میں جنگ بندی کی دستاویز پیش کردی

حملے روکنے اور قیدیوں کی فوری رہائی پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفیتھ نے نیویارک میں‌ سلامتی کونسل کے اجلاس میں یمن میں جاری جنگ روکنے کے لیے اپنی تجاویز پیش کردی ہیں۔ ان تجاویز میں دونوں فریقوں پر ایک دوسرے پر حملے روکنے اور قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ یمن کا ساحلی شہر الحدیدہ کشیدگی کا مرکز ہے اور وہاں پر جاری لڑائی پورے ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔ انہوں نے یمن میں انسانی اور سیاسی صورت حال کا بھی احوال بیان کیا۔ گریویتھ نے توقع ظاہر کی کہ یمن میں متحارب فریقین ان کی پیش کردہ امن تجاویز کو قبول کریں اورجنگ بندی کی مساعی کا مثبت جواب دیں گے۔

ادھرجمعہ کے روز عرب اتحاد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اقوام متحدہ اور دیگر امدادی اداروں کے ساتھ مل کر جنگ سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں‌جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مندوب نے یمنی صدر عبد ربہ منصور ھادی کے جنگ بندی کی طرف واپس آنے کو اہم پیش رفت قرار دیا۔

یو این مندوب کا کہنا تھا کہ یمن کے لیے آنے والے ہفتے بہت اہم ہیں۔ سویڈن کے شہر اسٹاک ہوم میں رواں ماہ کے آخر پر ہونے والے مشاورتی اجلاس میں یمن میں‌ جنگ بندی کے حوالے سے اہم پیش رفت ممکن ہے۔

یمن انسانی المیے کے دھانے پر

اوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل برائے انسانی امور مارک لوکوک نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ یمن اس وقت بدترین غذائی بحران سے گزر رہا ہے۔ خوراک کی قلت کے اعتبار سے یمن دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے۔ اگر جنگ سے متاثرہ علاقوں میں فوری خوراک مہیا نہیں کی جاتی تو اس کے نتیجے میں یمن ایک نئے انسانی المیے سے دوچار ہوسکتا ہے۔

'یو این' عہدیدار نے یمن میں خوراک کی قلت دورکرنے کے لیے فوری انسانی امداد مہیا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ لوکوک کا کہنا تھا کہ امدادی اداروں نے یمن میں 80 لاکھ افرادکو خوارک مہیا کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حوثی جنگجو الحدیدہ میں اسپتالوں اور طبی مراکز میں گھسے ہوئے ہیں اور انہوں‌ نے عام شہریوں کی زندگیاں خطرے میں‌ڈال رکھی ہیں۔ لوکوک نے یمنی عوام کے لیے خوراک فراہم کرنے اور وزارت صحت کے ملازمین کی تنخواہوں کی مد میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے دی گئی گرانٹ کا خیر مقدم کیا۔

18 ملین افراد غذائی قلت کا شکار

عالمی ادارہ خوراک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈیوڈ بیسلی نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب میں‌ کہا کہ یمنی ریال کی ڈالر کے مقابلے میں‌ قیمت 235 فی صد تک کم ہوچکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یمن میں 80 لاکھ خاندان فوری امداد کے منتظر ہیں۔ عالمی ادارے کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ عالمی امدادی اداروں کی طرف سے دی جانے والی امداد سعودی عرب اور اومان کے راستے یمن پہنچ رہی ہے۔ ڈیوڈ سیلی کا کہنا تھا کہ 1 کروڑ 20 لاکھ متاثرین میں سے 80 لاکھ افراد تک امدادی سامان پہنچایا گیا ہے۔

بارودی سرنگیں، بچوں کو جنگ میں‌ جھونکنا، تشدد

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یمن میں شہری امور کی مندوبہ رشا جرھم نے کہا کہ یمن میں حوثی باغیوں‌ کی جانب سے کئی طرح کے مسائل پیدا کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حوثیوں کی بچھائی گئی بارود سرنگیں شہریوں کے لیے سنگین خطرہ ہیں کیونکہ اب تک سیکڑوں افراد ان بارودی سرنگیں کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ انہوں‌ نے یمن میں حوثیوں کو بارودی سرنگیں بچھانے سے روکنے پر زور دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ یمن میں حوثیوں کی جانب سے ہر دوسرا شہری تشدد کا شکار ہے۔ بچوں کو جنگ میں‌ جھونکا جا رہا ہے، ان پر تشدد معمول بن گیا ہے اور اب بچیوں کو بھی اغواء کیاجا رہا ہے۔

اس موقع پر کویت کے سلامتی کونسل میں مندوب منصور العتیبی نے کہا کہ حوثی باغی ملک میں امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹیں کھڑی کررہے ہیں۔