.

روس اور ایران کے بیانات کے بعد ادلب ایک بار پھر عسکری مڈبھیڑ کی جانب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

رواں سال 17 ستمبر کو روس کے شہر سوچی میں ماسکو اور انقرہ کے درمیان طے پائے جانے والے معاہدے کے تحت شام کے صوبے ادلب میں بشار حکومت اور اپوزیشن کی آمادگی سے ہتھیاروں سے خالی علاقے کا قیام عمل میں آنا تھا۔

تاہم اب ایسا لگ رہا ہے کہ روس کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے بالخصوص جمعرات کے روز اس اعلان کے بعد کہ وہ ادلب میں اعتدال پسند اپوزیشن کو شدت پسندوں سے علاحدہ کرنے میں ناکام ہو چکا ہے۔

دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر جنرل محمد علی جعفری نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک بشار حکومت کی درخواست پر ادلب اور حلب کے شمال مغربی علاقے میں اپنی "امن فوج" بھیجے گا جو وہاں قیام کریں گی۔

ادھر مسلح شامی اپوزیشن کے ایک عسکری ذمّے دار نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے اس اعلان پر تبصرے میں کہا کہ "تہران کا یہ موقف سوشی معاہدے سے فرار اختیار کرنے کا ایک بے ہودہ حیلہ ہے۔ تاہم ہم اس وقت لڑائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ ہماری فورسز محاذوں پر پوری طرح مستعد ہیں"۔

اس سلسلے میں نیشنل لبریشن فرنٹ کے کیپٹن ناجی مصطفی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے ٹیلیفون پر گفتگو میں کہا کہ "شامی حکومت کے عہدے داران اور حلیفوں کی زبانی سامنے آنے والے بیانات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ معاہدہ عارضی ہے۔ اس کا مطلب ہوا کہ وہ معاہدے کی پاسداری نہیں کریں گے۔ انہوں نے جنگ بندی کی شرائط کی خلاف ورزی کی اور ہمارے بعض ٹھکانوں پر بم باری کی جس کا ہم نے پھر جواب دیا"۔

ناجی مصطفی نے بتایا کہ "ہمارے زیر کنٹرول علاقوں میں روسی فورسز موجود نہیں ہیں تاہم شامی حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں میں ایرانی ملیشیاؤں کا وجود ہے اور وہاں ان کے کیمپ بھی واقع ہیں۔ ایرانی فورسز نے ہمارے زیر کنٹرول علاقوں پر حملہ کر کے دراندازی کی کوشش کی مگر ہم نے محاذوں پر دفاع کر کے یہ کوشش ناکام بنا دی"۔

سیاسی حوالے سے ادلب شہر کے صحافی حازم داکل نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے ٹیلیفونک گفتگو میں بتایا کہ "بشار حکومت ان تمام علاقوں کو دوبارہ سے کنٹرول میں لینے کی کوشش کر رہی ہے جن سے وہ ہاتھ دھو چکی تھی۔ ادلب اور اس کے دیہی علاقوں میں ہتھیاروں سے خالی زون کا منصوبہ دریائے فرات کے مشرق میں ہونے والی پیش رفت کے ساتھ مربوط ہے۔"

ان کا مزید کہنا تھا کہ "تاہم ماسکو اب شامی اپوزیشن کو ایرانی فورسز بھیجنے کے حوالے سے دھمکا رہا ہے کیوں کہ اپوزیشن نے وہاں روسی ملٹری پولیس کی موجودگی کو مسترد کر دیا۔ ادلب میں سامنے آنے والی پیش رفت میں ترکی کا بڑا کردار ہے۔ وہ اب تک ہتھیاروں سے خالی علاقے سے ہیئہ تحریر الشام کو باہر نہیں لے جا سکا ہے۔ تحریر الشام کبھی تو سوچی معاہدے کے لیے موافقت کا اظہار کرتی ہے اور کبھی اس کو یکسر مسترد کر دیتی ہے"۔

صحافی داکل کے نزدیک اگر ترکی کو سیرین ڈیموکریٹک فورسز یعنی ایس ڈی ایف کے خلاف لڑنے کے لیے دریائے فرات کے مشرق میں داخل ہونے کی اجازت دے دی گئی تو اس صورت میں ہیئہ تحریر الشام پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ بعد ازاں ادلب پر ایک بار پھر بشار حکومت اور اس کے حلیفوں کا کنٹرول ہو جائے گا۔ انقرہ کے لیے اہم چیز ادلب نہیں بلکہ دریائے فرات کا مشرق ہے"۔

دو روز قبل روسی میڈیا نے شامی حکومت کی فورسز کے عسکری ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ مسلح گروپوں کی جارحیت کا سلسلہ جاری رہنے کی صورت میں ادلب کے جنوب میں ایک بڑے فوجی آپریشن کے لیے تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

یاد رہے کہ ادلب مسلح شامی اپوزیشن کا آخری گڑھ ہے۔ اس پر دو عسکری گروپوں کا اصل کنٹرول ہے۔ یہ گروپ "ہیئہ تحریر الشام" اور "نیشنل لبریشن فرنٹ" ہیں۔