.

سعودی شاہ سلمان سے عراقی صدر برہم صالح کی ملاقات ، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے صدر برہم صالح نے سعودی دارالحکومت الریاض میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ملاقات کی ہے اور ان سے دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے اور عراق میں ہونے والی تازہ سیاسی پیش رفت کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے۔

شاہ سلمان نے عراقی صدر کے اعزاز میں شاہی محل میں ظہرانہ دیا اور اس موقع پر ان سے دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ تعلقات کے مختلف پہلووں پر تفصیلی بات چیت کی ہے۔ برہم صالح خطے کے دورے کے آخری مرحلے میں آج صبح سعودی دارالحکومت پہنچے تھے۔اس سے پہلے انھوں نے کویت ، متحدہ عرب امارات اور ایران کا دورہ کیا ہے۔

سعودی عرب اور عراق کے درمیان گذشتہ دو سال کے دوران میں تعلقات کو فروغ ملا ہے اور دونوں ملکوں نے اپنی دوطرفہ سرحد پر تجارتی مال کی حمل ونقل کے لیے سہولتیں مہیا کرنے سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے سے اتفاق کیا ہے۔انھوں نے کھیلوں کے مقابلوں کے انعقاد کے لیے بھی ایک دوسرے سے تعاون سے اتفاق کیا ہے۔

برہم صالح اور دوسرے عراقی سیاست دان اپنے ملک کی قسمت کو تبدیل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔عراق کو گذشتہ برسوں کے دوران میں داعش کی مسلح شورش اور سیاسی عدم استحکام کا سامنا رہا ہے جس کی وجہ سے دنیا میں تیل کی پیداوار کے لحاظ دوسرے نمبر پر یہ ملک مختلف مسائل سے دوچار ہے۔

واضح رہے کہ عراقی پارلیمان نے 2 اکتوبر کو اعتدال پسند کرد رہ نما برہم صالح کو ملک کا صدر منتخب کیا تھا۔ان صدارتی انتخابات میں بڑے کرد لیڈروں کا پہلی مرتبہ ایک دوسرے سے مقابلہ ہوا تھا۔عراق کے آئین کے تحت صدر کا عہدہ کردوں کے لیے مختص ہے۔ وزیراعظم شیعہ مذہب سے تعلق رکھتا ہے اور پار لیمان کا اسپیکر اہلِ سُنت سے ہوتا ہے۔