.

حوثیوں نے یمنی فوج کے خلاف میزائل اور ڈرون حملے بند کرنے کا اعلان کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی آئینی حکومت کے خلاف برسرپیکار باغی حوثیوں نے یمن کے لئے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفتھ کی اپیل پر سرکاری اور اتحادی فوج کے خلاف میزائل اور ڈرون طیاروں کے حملے بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ایک بیان میں حوثیوں نے عندیہ ظاہر کیا ہے کہ جب تک دوسرا فریق جنگ بندی کی پابندی کرتا ہے وہ تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں روکنے کے لئے تیار ہیں تاکہ عادلانہ امن کی راہ ہموار ہو سکے۔

حوثیوں کے اس بیان پر یمن کی آئینی حکومت کو عسکری اور سفارتی مدد فراہم کرنے والے عرب اتحاد نے تاحال کسی قسم کے ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔

کیا یہ امن کے لیے کوئی اقدام ہے یا پھر جنگ بندی کی آڑ میں مزید تیاریوں کے لئے وقت حاصل کرنے کی کوشش یا پھر یہ عالمی ادارے کے مطالبے پر حقیقی عمل درآمد ہے؟

یمنی صورتحال پر نظر رکھنے والے مبصرین نے حوثیوں کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے متذکرہ سوالات اٹھائے ہیں۔

یہ بیان سپریم کمیٹی کے سربراہ محمد علی الحوثی نے اپنے ٹویٹر اکاونٹ پر جاری کیا ہے، جس میں باغیوں نے کہا ہے کہ ایسا اعلان دراصل یو این نمائندے کی جانب سے ڈرون اور میزائل حملے روکنے کے لئے کیا گیا ہے جس کا مقصد اچھی یمن میں امن قائم کرنے کی کوششوں کی صدق دل سے حمایت کرنا ہے۔

اتحادی فوج نے اس بیان پر اپنے سرکاری ردعمل کا اظہار نہیں کیا تاہم مبصرین کی رائے میں حوثیوں کا یہ اقدام تندی باد مخالف کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کے سوا کچھ اور نہیں یا پھر اپنے ایرانی حلیف پر عائد سخت امریکی پابندیوں نے باغیوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔

نیز میزائل اور ڈرون حملوں کا حوثی ذرائع ابلاغ میں تو بہت چرچا رہا ہے تاہم زمینی طور پر اس کے مثبت نتائج دیکھنے کو نہیں ملے۔ صرف یہی نہیں، اتحادی فوج کی مدد سے سرکاری فوج کو ملنے والی کامیابیوں نے کئی ماہ سے حوثیوں کی مختلف محاذوں پر کسی بھی پیش قدمی کو روک رکھا ہے۔

اس کے علاوہ سرکاری فوج باغیوں کی شہ رگ الحدیدہ بندرگاہ سے صرف چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

تاہم اس سارے منظر نامہ میں یہ سوال سب سے زیادہ اہم ہے کہ آیا حوثی کسی بھی امن معاہدے کا احترام کریں گے کیونکہ ان کی اب تک کی تاریخ میں اس نوعیت کے معاہدے کی پاسداری کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔