.

عراق نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان ثالثی کی اطلاعات کی تردید کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے ایوانِ صدر نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان بغداد کے ثالثی کے کردار سے متعلق اطلاعات کی تردید کردی ہے۔

عراقی ایوانِ صدر نے سوموار کو اپنی ویب سائٹ پر ’’ تردید اور وضاحت ‘‘ کے عنوان سے ایک بیان جاری کیا ہے۔اس میں میڈیا میں شائع شدہ اس خبر کی تردید اور وضاحت کی گئی ہے کہ ’’ایران کو سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کی پیش کش کی گئی ہے اور یہ کہ عراقی صدر برہم صالح نے ثالثی کی تجویز پیش کی تھی اور انھوں نے اپنے ایرانی ہم منصب حسن روحانی کا ایک پیغام بھی الریاض کو پہنچایا ہے‘‘۔

عراقی پریذیڈینسی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ’’قابلِ اعتماد ذرائع سے درست معلومات پر مبنی خبر دی جانی چاہیے‘‘۔اس نے بیان میں کہا ہے کہ ’’ صدر برہم صالح کے حالیہ دورے کے حوالے سے ہم عوامی جمہوریہ عراق کے اس مؤقف کا اعادہ کرتے ہیں کہ وہ ثالثی کا کوئی کردار نہیں کررہا ہے ۔ صدر صالح نے بھی اپنی ملاقاتوں میں اس بات پر زور دیا ہے کہ عراق ثالثی کا کردار ادا نہیں کررہا ہے بلکہ وہ خطے میں جاری تنازع کے مضمرات سے بچاؤ چاہتا ہے‘‘۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’ عراق عرب اور علاقائی ماحول میں مشترکہ مفادات کا سنگم ہے ۔ وہ دوسرے ممالک کی مکمل خود مختاری اور احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان کے ساتھ دوستی اور بھائی چارے پر مبنی تعلقات چاہتا ہے‘‘۔

عراقی صدر برہم صالح نے اتوار کو سعودی دارالحکومت الریاض میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ملاقات کی تھی اور ان سے دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے اور عراق میں ہونے والی تازہ سیاسی پیش رفت کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا تھا۔ اس سے پہلے انھوں نے کویت ، متحدہ عرب امارات اور ایران کا دورہ کیا تھا۔