.

"منی لانڈرنگ" سے متعلق بیان کے بعد جواد ظریف پھنس گئے

عدالت نے تحقیقات کے لیے دستاویزات طلب کرلیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے ایک بنیاد پرست رکن پارلیمنٹ حسین نقوی حسینی نے انکشاف کیا ہے کہ وزیر خارجہ جواد ظریف منی لانڈرنگ سے متعلق ایک بیان کے بعد کافی مشکل صورت حال کا سامنا کررہےہیں۔ ایرانی عدالت نے وزیر خارجہ سے کہا ہے کہ وہ منی لانڈرنگ سے متعلق اپنے دعوے کے ثبوت کے لیے مصدقہ دستاویزات پیش کریں۔

"الوائین" گروپ کے ترجمان حسین نقوی نے بتایا کہ جوڈیشل کونسل کے وائس چیئرمین غلام حسین محسنی ایجہ ای نے جواد ظریف سے کہاہے کہ وہ اپنے بیان کی وضاحت کریں اور ان کے پاس منی لانڈرنگ سے متعلق کوئی ثبوت ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے۔

خیال رہے کہ گذشتہ دنوں وزیرخارجہ جواد ظریف نے کہا تھا کہ ہمارے ملک میں منی لانڈرنگ کی روک تھام کامیاب نہیں ہوسکی اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

"خبر آن لائن" ویب سائیٹ نے ایک فوٹیج نشر کی ہے جس میں جواد ظریف کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ "منی لانڈرنگ سےبہت سے لوگ مستفید ہو رہےہیں۔ ایسے لوگ جو منی لانڈرنگ کے قانون کے خلاف ہیں وہ اس طرح کے قوانین کے خلاف بھاری رقوم بھی صرف کررہے ہیں"۔

ایرانی پارلیمنٹ کے رکن حسین نقوی کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ جواد ظریف کا ملک میں منی لانڈرنگ کے تسلسل کے بارے میں بیان ملک وقوم کے مفاد کے خلاف ہے۔ ان کاکہنا تھا کہ عدالت کو اس طرح کے کیسز کا از خود نوٹس لینا چاہیے اور ان پر لاپرواہی برتنے کا کوئی جواز نہیں۔