.

حوثیوں کی جانب سے الحدیدہ میں’سیز فائر‘ کی خلاف ورزی

شاہراہ صنعاء پر وقفے وقفے سے سرکاری فوج اور حوثیوں کے درمیان جھڑپیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے الزام عاید کیا ہے کہ ایران نواز حوثی باغیوں نے بندرگاہی شہر الحدیدہ میں فائر بندی کے اپنے ہی اعلان کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا ہے۔

الحدیدہ سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ سات جون نامی کالونی اور شاہراہ صنعاء کو ملانے والے نکتہ پر وقفے وقفے سے سرکاری فوج اور حوثیوں کے درمیان چھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب حوثیوں نے علاقے میں سرکاری فوج کے مراکز کی جانب پیش قدمی اور دراندازی کی کوشش کی۔

وزیر اطلاعات الاریانی نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ ’’حوثی ملیشیا کے اس بیان کی روشنائی بھی خشک نہیں ہوئی تھی جس میں انہوں نے بیلسٹک میزائل حملے روکنے کا اعلان کیا تھا۔ اگلے ہی لمحے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کی جانب میزائل داغ دیا۔‘‘

یمن کا قضیہ حل کرنے کی خاطر برطانیہ نے اقوام متحدہ میں ایک منصوبہ پیش کیا تھا جس میں الحدیدہ شہر میں دو ہفتوں کے لئے فوری فائر بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس سیز فائر کا مقصد شہر میں تمام رکاوٹیں ہٹا کر انسانی امداد کی ترسیل کو یقینی بنانا تھا۔

حوثی ملیشیا نے اتوار کے روز ایک بیان میں عندیہ ظاہر کیا تھا کہ وہ یمن کے لئے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفتھ کی اپیل پر یمن کی سرکاری فوج اور سعودی عرب کے خلاف میزائل اور ڈرون حملے بند کر رہے ہیں۔

ادھر یمنی حکومت نے سرکاری طور پر اس امر کی تصدیق کی ہے کہ وہ تنازع کے خاتمے کی خاطر یو این کے زیر اہتمام سویڈن میں ہونے والے امن مذاکرات میں شرکت کرے گی۔

یمنی وزارت خارجہ، جسے بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے، نے خبر رساں ادارے ’’سباء‘‘ کے ذریعے جاری کردہ بیان میں تصدیق کی ہے کہ یو این ایلچی گریفتھ کے نام پیغام میں بتایا ہے کہ مذاکرات میں نمائندگی کے ہم اپنا وفد بھیجیں گے۔

یمنی حکومت نے یو این کو لکھے گئے خط میں اپیل کی تھی کہ ’’حوثی ملیشیا پر عالمی ادارے کی کوششوں کا مثبت جواب دینے کے لئے زور ڈالا جائے اور انہیں اس بات پر آمادہ کیا جائے کہ وہ ایسی مشاورت میں کسی پیشگی شرط کے بغیر شرکت کریں۔‘‘

مارٹن گریفتھ آئندہ ہفتوں میں سویڈن کے اندر نئے امن مذاکرات منعقد کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اپنی اس کوشش میں انہیں امریکا، برطانیہ اور فرانس سمیت متعدد دوسرے ملکوں کی حمایت حاصل ہے۔