.

سعودی فرمانروا اور ولی عہد کو گزند پہنچانے کی اجازت نہیں دیں گے: الجبیر

مملکت کی قیادت ہمارے لئے ’ریڈ لائن‘ کا درجہ رکھتی ہے: سعودی وزیر خارجہ کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر کا کہنا ہے کہ صحافی جمال خاشقجی کے معاملے میں منصفانہ تفتیش بین الاقوامی برادری سے زیادہ سعودی عرب کے لئے اہم ہے۔

کثیر الاشاعت عرب روزنامہ ’’الشرق الاوسط‘‘ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے عادل الجبیر کا کہنا تھا کہ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ان کے ولی عھد شہزادہ محمد بن سلمان ریڈ لائن کی حیثیت رکھتے ہیں، ہم انہیں گزند پہنچانے کی ہرگز اجازت نہیں دے سکتے۔

انھوں نے ترکی سے اپیل کی کہ وہ اس قتل سے متعلق مزید شواہد سعودی استغاثہ میں پیش کرے تاکہ مکمل حقائق جاننے میں مدد مل سکے۔ وزیر خارجہ کے بقول ترکی اس امر کا اظہار پہلے ہی کر چکا ہے کہ ولی عھد کا اس قتل سے کوئی تعلق نہیں۔

سعودی وزیر خارجہ نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ’’مملکت کی قیادت امریکا کے ساتھ اپنے تاریخی تزویراتی تعلقات اور شراکت کا تحفظ اور انہیں مضبوط بنانے کی خواہش مند ہے‘‘۔ انھوں نے اس جانب سے خصوصی طور پر ذکر کیا کہ امریکا نے خاشقجی کے قتل میں ملوث افراد کے جن افراد پر پابندیاں عاید کی ہیں وہ سب شخصی نوعیت کی ہیں، ان کا مملکت کی حکومت اور معیشت سے چنداں کوئی تعلق نہیں ہے۔

عادل الجبیر نے واضح کیا کہ مملکت نے سے پہلے خود جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث مشتبہ افراد کے خلاف اقدام اٹھائے جس کے بعد مختلف ملکوں نے ان مشتبہ افراد پر پابندیاں عاید کیں۔ ایسی پابندیاں ہمارے اور اتحادیوں کے درمیان تزویراتی مفادات اور مشترکہ سیاسی ومعاشی مفادات کو چنداں متاثر نہیں کرتیں۔

انھوں نے بتایا کہ سعودی عرب کے اس معاملے میں اپنا موقف ’’تبدیل‘‘ نہیں کیا۔ عادل الجبیر کے بقول کہ ’’قتل کی کارروائی کرنے والوں نے گمراہ کن اور جھوٹی رپورٹ پیش کی، جب اس رپورٹ میں پیش کردہ تفصیل حقائق کے منافی ظاہر ہوئی تو خادم الحرمین الشریفین نے سعودی پراسیکیوٹر کو تحقیقات کا حکم دیا، جس کے بعد سامنے آنے والے حقائق کا اعلان کیا گیا۔ ریاض نے اس معاملے میں کوئی کہانی نہیں سنائی بلکہ ملنے والی معلومات کو شفاف انداز میں سامنے لائے اور ہم ایسا کرتے رہیں گے۔