.

یمن کی امداد کے حوالے سے سعودی عرب اور امارات کی پاسداری تاریخی ہے: قرقاش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور انور قرقاش نے باور کرایا ہے کہ سعودی عرب اور امارات کا یمن اور اس کے عوام کے لیے امداد کی فراہمی پر کاربند رہنا تاریخی اہمیت کا حامل ہے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

بدھ کے روز اپنی ایک ٹوئیٹ میں قرقاش کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور امارات کے "امدادی" پروگرام کا مقصد 1 کروڑ سے 1.2 کروڑ یمنی شہریوں کی غذائی ضروریات پوری کرنا ہے۔

انہون نے واضح کیا کہ امتیازی حیثیت کا حامل یہ منصوبہ یمن میں انسان دوست کوششوں میں ایک اضافہ ہے۔ قرقاش کے مطابق یمن اور اس کے عوام کے حوالے سے سعودی عرب امارات کا ہر دم متحرک رہنا ایک تاریخی امر ہے۔

منگل کے روز سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے یمن کو درپیش انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے قحط اور افلاس کے مارے یمنی عوام کے واسطے 50 کروڑ ڈالر کی اضافی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ دونوں ملکوں کے اس اقدام سے 1 سے 1.2 کروڑ یمنی شہریوں کو غذا کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔

اضافی امداد کا اعلان شاہ سلمان مرکز برائے امداد و انسانی امور کے عمومی نگران عبداللہ الربیعہ نے متحدہ عرب امارات کی وزیر برائے بین الاقوامی تعاون ریم الھاشمی کے ہمراہ ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ عبداللہ الریبعہ کا کہنا تھا کہ ’’ہم یمن میں ضرورت مندوں کو مدد فراہم کرنے والی اقوام متحدہ کی ذیلی انجمنوں کے ساتھ مل کر امداد پہنچانے کی کوشش کریں گے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ تین برسوں کے دوران عرب اتحاد کے رکن ملکوں نے یمن کے لیے 18 ارب ڈالر مالیت کی امداد فراہم کی ہے۔