.

سعودی قیادت عوام کے لیے سرخ لکیر کا درجہ رکھتی ہے: عادل الجبیر

’’شاہ سلمان یا محمد بن سلمان کے حوالے سے توہین آمیز بات برداشت نہیں کریں گے‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو منصب سے ہٹانے کا مطالبہ ایک ’سرخ لکیر‘ ہے۔

ایک غیر ملکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے عادل الجبیر کا کہنا تھا کہ ولی عہد دو اکتوبر کو استنبول میں سعودی قونصل خانے میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث نہیں ہیں۔

انھوں نے یہ بات امریکی سینیٹ کے ارکان کی اس درخواست کے بعد کہی جس میں صدر ٹرمپ سے سعودی ولی عہد کے اس قتل ملوث ہونے یا نہ ہونے کی دوبارہ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

عادل الجبیر نے کہا کہ ’سعودی عرب میں ہماری قیادت ایک سرخ لکیر ہے۔ خادم الحرمین شریفین (شاہ سلمان) اور ولی عہد (محمد بن سلمان) ایک سرخ لکیر ہیں۔‘

’وہ ہر سعودی شہری کے نمائندہ ہیں اور ہر سعودی شہری ان کی نمائندگی کرتا ہے۔ ہم ایسی کوئی بات چیت برداشت نہیں کریں گے جو ہماری بادشاہت یا ہمارے ولی عہد کے حوالے سے توہین آمیز ہو۔‘

عادل الجبیر نے اس بات کو دہرایا کہ ولی عہد جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے یہ بہت واضح کر دیا ہے۔ ہماری تحقیقات جاری ہیں اور ہم ان افراد کو سزا دیں گے جو اس کے ذمہ دار ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ یہ قتل انٹیلی جنس ایجنٹس کی ایک ’بددیانت کارروائی‘ تھی۔

سعودی وزیر خارجہ نے ایک بار پھر ترکی کو قتل سے متعلق تمام ثبوت فراہم کرنے اور معلومات لیک نہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔