.

ایران امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے عراق کو کس طرح استعمال کر رہا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے امریکا کی جانب سے عائد پابندیوں کو توڑنے اور چکمہ دینے کے واسطے عراق پر بھرپور توجہ دینا شروع کر دی ہے۔ اس مقصد کے ایران بڑے پیمانے پر اپنی مصنوعات عراق کو برآمد کر رہا ہے اور ان کی قیمت ایرانی کرنسی میں وصول کر رہا ہے۔

اس حوالے سے لندن سے نشر ہونے والے چینل "ایران انٹرنیشنل" کی ویب سائٹ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی پابندیوں کے بعد عراق تہران کے پڑوسی ممالک میں ایرانی برآمدات کی سب سے بڑی منزل بن چکا ہے۔ گزشتہ چند ماہ میں دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کے حجم میں اضافہ ہوا ہے تاہم یہ اضافہ یک طرفہ ہے۔ عراق کا نام تو ایران کو مصنوعات ارسال کرنے والے پہلے بیس ممالک میں بھی نہیں آتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی تاجر اور کاروباری حضرات اپنا سامان عراق برآمد کرنے کے بعد اس کی قیمت ڈالر یا غیر ملکی کرنسی کے بجائے ایرانی ریال میں لیتے ہیں گویا کہ وہ ایران کے اندر ہی تجارت کر رہے ہیں۔

ادھر کرنسی کے ایرانی تاجر عراق کے مختلف شہروں میں گھوم پھر کر عراقی کرنسی ایکسچینجز کو ایرانی ریال سے کر ان سے امریکی ڈالر خرید رہے ہیں۔ اس طرح وہ غیر سرکاری طور پر امریکی ڈالروں کو ایران پہنچا رہے ہیں جب کہ ایرانی کرنسی امریکی ڈالر کے مقابل قدر کھوتی جا رہی ہے۔

اسی طرح عراق کے کرنسی ایکسچینجز ایرانی سامان درآمد کرنے والے عراقی تاجروں کو ایرانی ریال فروخت کر رہے ہیں۔

کسٹم اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے ابتدائی سات ماہ کے دوران عراق آنے والی ایرانی برآمدات کا حجم 5.73 ارب ڈالر رہا جو ایران کی تیل سے ہٹ کر مجموعی برآمدات کا 21.4% ہے۔

عراق کے لیے ایران کی اہم برآمدات میں بھانپ کی پن چکیوں کے اجزا، پلاسٹک ٹیپ، پنیر، آئس کریم، گھریلو ساز و سامان، واٹر کولر، پلاسٹک کی مصنوعات اور باورچی خانے کا سامان شامل ہے۔

دوسری جانب رواں سال کے ابتدائی سات ماہ میں عراق نے صرف 3.2 کروڑ مالیت کی اشیاء ایران برآمد کیں۔ ان اشیا میں فولادی اسکریپ اور ایلومینیم بھرت اہم ترین ہیں۔

عراق اس وقت ایرانی گیس کا دوسرا سب سے بڑا خریدار ہے جو یومیہ 1.4 کروڑ مکعب میٹر گیس درآمد کر رہا ہے۔