.

روس کا شامی اپوزیشن گروپوں پر کلورین گیس استعمال کرنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں نیشنل لبریشن فرنٹ نے روس کے ان الزامات کی مکمل طور پر نفی کی ہے جن میں (انقرہ کے حمایت یافتہ) شامی اپوزیشن عسکری گروپوں کو کلورین گیس استعمال کرنے کا ذمے دار ٹھہرایا گیا تھا۔

نیشنل لبریشن فرنٹ کے عسکری کمانڈر عبدالسلام عبدالرزق نے اتوار کے روز ایک ٹوئیٹ میں کہا ہے کہ اپوزیشن کے پاس نہ تو زہریلی گیسیں ہیں اور نہ وہ ان کے استعمال پر قادر ہے۔ ان کے مطابق یہ محض ایک جھوٹ ہے کیوں کہ انقلابیوں کے پاس ان گیسیوں کی تیاری کے لیے تجربہ گاہیں نہیں ہیں۔

ادھر شامی جیش حُر کے ترجمان مصطفی سیجری نے زہریلی گیسوں کے استعمال سے متعلق دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے شامی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ سوچی معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش میں یہ پروپیگنڈا کر رہی ہے۔ سیجری کا کہنا ہے کہ "بشار حکومت نے آج جرجناز شہر پر بم باری میں 5 بچوں کو شہید کر دیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے بعد مقبوضہ حلب کے بعض علاقوں پر کیمائی گیس سے حملہ کیا تا کہ شامی اپوزیشن کو اس کا ذمے دار ٹھہرا سکے۔ لہذا ہم عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ شامی عوام کے خلاف بشار الاسد کے مسلسل جرائم کے احتساب کے واسطے فوری اور سنجیدہ طور پر حرکت میں آئے"۔

روسی وزارت دفاع نے ہفتے کی شام اعلان کیا تھا کہ اس کے ماہرین نے حلب شہر میں ان رہائشی علاقوں میں زخمی ہونے والوں کو مدد پیش کرنا شروع کر دی ہے جن کو زہریلی گیسوں پر مشتمل راکٹ گرینیڈز سے نشانہ بنایا گیا تھا۔

روسی وزارت دفاع کے ترجمان ایگور کوناشینکوف کا کہنا ہے کہ شام میں روسی فوج کے زیر انتظام شُعائی، کیمیائی اور حیاتیاتی تحفظ کے یونٹوں نے زخمیوں کا معائنہ کر کے ان کو طبی دیکھ بھال فراہم کرنا شروع کر دی ہے۔ ایگور کے مطابق ابتدائی معلومات اس امر کی تصدیق کرتی ہیں کہ حلب میں رہائشی علاقوں پر فائر کیے جانے والے راکٹ گرینیڈز کلورین سے پُر تھے۔

حمیمیم کے اڈے سے آنے والی اطلاعات کے مطابق 46 افراد کیمیائی گیس سے متاثر ہوئے جن کو حلب کے ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا۔