.

سعودی خاتون آرٹسٹ نے برتن اور دیگیں عالمی فن پاروں میں کیسے تبدیل کیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں قائم"اللوفر" میوزیم کا وزٹ کرنے والے برتوں اور پرانی دیگوں سے تیار کردہ فن پارے دیکھ کر حیران رہ گئے۔ یہ فن پارے سعودی عرب کی ایک خاتون آرٹیسٹ "مھاالملوح" فکر کی اختراع ہے جس نے پرانے برتنوں کو بھی گراں قیمت فن پاروں میں‌تبدیل کرکے زائرین کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق للوفر عجائب گھر میں موجود برتن کے ان فن پاروں کو دیکھ کر ہرایک حیران ہے اور برتنوں کو شاندارفلسفیانہ فن پاروں کی شکل دینے پر مھا الملوح کو داد و تحسین دی جا رہی ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کی ٹیم نے بھی ان فن پاروں کی تصویری جھلکیاں اپنے ناظرین اور قارئین کے لیے حاصل کی ہیں۔ اس کے علاوہ اس فن کی خالق مہا الملوح نے بھی العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات چیت کی۔

اس نے کہا کہ مشہور ہے کہ فن کے بہت سے چہرے ہوتے ہیں۔ وہ مسلمہ حقیقت نہیں، اس میں تاویل قبول نہیں کی جاتی۔ میرے خیال میں فن کے بہت سے راستے، پہلو اور اس کی گہرائیاں ہیں۔ ہرایک اپنی مرضی سے اس کی توضیح کرتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں اس نے کہا کہ پرانے زمانی کی استعمال کی اشیاء آج کے دورےکے فن پارے ہیں اور آج کے دور کی چیزیں آنے والے زمانوں میں فن پارے کہلائیں گی۔ پرانے دور میں استعمال کی اشیاء اس دور کے روز مرہ زندگی کی نشاندہی کرتے ہیں۔

مھا الملوح کا کہنا تھا کہ جن اشیاء، پرانے برتنوں اور دیگر چیزوں کو فن پاروں کی شکل دی ہے وہ نجی ضرورت کی چھوٹی ضرورت ہی نہیں بلکہ یہ سماج کے اجتماعی تشخص کی بھی علامت ہیں۔

انہوں نے اللوفر میوزیم کو ایسے 16فن پارے فراہم کیا جو ایلمونیم کی پرانی دیگوں اور دیگر برتنوں‌پر مشتمل ہیں۔ انہیں دیواروں پر آویزاں کیا گیا اور ان پر کشیدہ کاری کرکے پرانے فن پاروں کو جدید شکل دی گئی ہے۔

الملوح عالمی سطح پر فن پاروں کے حوالے سے منعقدہ ہونے والی نمائشوں میں بھی شرکت کرچکی ہیں۔ انہوں نے آخری بار اٹلی کے شہر بینالی فینیسیا اور دبئی میں منعقد ہونے والی عالمی نمائش میں شرکت کی تھی۔