.

عراق : وزارت داخلہ کے قلم دان کی گُتھی سلجھانے کے لیے "ڈیل" کی خبریں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو با خبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ کل پیر کے روز عراقی پارلیمنٹ کے اجلاس میں وزیراعظم عادل عبدالمہدی کی حکومت کی باقی ماندہ وزارتوں کے قلم دان سنبھالنے والی شخصیات کے ناموں پر رائے شماری ہو گی جب کہ ابھی تک وزیر داخلہ اور وزیر دفاع کے ناموں کا فیصلہ نہیں ہو سکا ہے۔

مذکورہ ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ البناء اتحاد جس میں ہادی العامری کا الفتح گروپ اور نوری المالکی کا اسٹیٹ آف دی لاء گروپ شامل ہے وہ وزارت داخلہ کے لیے فالح الفیاض، وزارت تعلیم کے لیے صبا الطائی اور وزارت اعلی تعلیم کے لیے الصدری گروپ کے سابق رہ نما قصی السہیل کے ناموں پر ڈٹا ہوا ہے۔

اس دوران الفتح گروپ کے ایک رکن مہدی تقی نے انکشاف کیا ہے کہ پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس میں فالح الفیاض کو وزارت داخلہ کا قلم دان دیے جانے سے انکار جاری رہنے کی صورت میں ان کی جگہ متبادل امیدوار پیش کرنے کے حوالے سے سودے بازی ہو سکتی ہے۔ تقی کے مطابق وزیراعظم عادل عبدالمہدی بقیہ تمام وزراء سے متعلق امیدواروں کے کوائف اسکروٹنی کے لیے متعلقہ کمیٹیوں کو بھیج چکے ہیں۔ ان میں فالح الفیاض اور ان کا متبادل امیدوار بھی شامل ہیں۔

معلومات کے مطابق حیدر العبادی کی حکومت میں وزارت داخلہ کا قلم دان سنبھالنے والے قاسم الاعرجی اس بار بھی وزیر داخلہ کے لیے ایک مضبوط امیدوار ہیں۔ علاوہ ازیں شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی کے سابق ترجمان احمد الاسدی کو ضرورت پڑنے پر فالح الفیاض کے متبادل کے طور پر لایا جائے گا۔

سیاسی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ فالح الفیاض کی بطور وزیر داخلہ نامزدگی کے حوالے سے شدید اختلاف اور سیاسی کشیدگی انتہا پر پہنچنے کے بعد ایسا نظر آ رہا ہے کہ فریقین نے پارلیمنٹ میں رائے شماری کے ذریعے معاملے کے تصفیے کا راستہ چن لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق فالح الفیاض کو یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ اگر وہ وزارت داخلہ کے منصب سے دست بردار ہو کر صرف قومی سلامتی کے مشیر ہونے پر اکتفا کرتے ہیں تو ایسی صورت میں ان کے خلاف پارلیمنٹ میں کوئی تحریک نہیں چلائے جائے گی۔

واضح رہے کہ سابق وزیراعظم حیدر العبادی نے فالح الفیاض کو نگراں حکومت کے عرصے کے دوران قومی سکیورٹی ادارے کے سربراہ، الحشد الشعبی ملیشیا کے سربراہ اور قومی سلامتی کے مشیر کے منصبوں سے برطرف کر دیا تھا۔ ان پر قانون ساز انتخابات کے دوران اپنے سکیورٹی عہدوں کو سیاسی مقاصد کے واسطے استعمال کرنے کا الزام تھا جو کہ آئین کی خلاف ورزی شمار ہوتی ہے۔ تاہم عراقی پارلیمنٹ نے رائے شماری کے ذریعے الفیاض کو ایک بار پھر قومی سکیورٹی کے ادارے کے سربراہ کی کرسی پر پہنچا دیا۔

یاد رہے کہ عراقی پارلیمنٹ نے 3 اکتوبر کو 14 وزراء کے ناموں کی توثیق کر دی تھی جب کہ سیاسی اختلافات کے باعث 8 وزارتوں کے قلم دان خالی رہ گئے جن میں اہم ترین وزارت داخلہ اور وزارت انصاف ہیں۔