.

علی عبداللہ صالح کی میت ایک بار پھر زیر بحث

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے سابق مقتول صدر علی عبداللہ صالح کی میت کا معاملہ ایک بار پھر زیر بحث آ گیا ہے۔ یہ پیش رفت سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر زیر گردش اس خبر کے بعد سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سابق صدر کی لاش کو منتقل کر کے اتوار کے روز عدن میں دفن کیا جا رہا ہے۔

ادھر علی صالح کی جماعت پیپلز کانگریس کے ایک رہ نما طاہر حزام نے تمام افواہوں اور قیاس آرائیوں کو ختم کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مقتول سابق صدر کو صنعاء میں ملٹری ہسپتال کے عقب میں واقع قبرستان میں دفن کیا گیا تھا۔

حزام نے ہفتے کی شب فیس بک پر اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ "ہم بارہا یہ کہتے رہے ہیں کہ علی عبداللہ صالح کو ملٹری ہسپتال کے پیچھے واقع قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ اس لیے کہ علی عبداللہ صالح کے بیٹے احمد نے اپنے والد کو سنحان میں حصن کے قبرستان میں دفنائے جانے سے انکار کر دیا تھا۔ احمد کا اصرار تھا کہ ان کے والد کو جامع مسجد الصالح میں دفن کیا جائے۔ اس کے نتیجے میں عوض عارف نے اپنے والد عارف الزوکا کو شبوہ صوبے میں ان کے آبائی علاقے میں دفن کرنے پر مجبور کر دیا جب کہ عوض کی خواہش تھی کہ علی صالح اور عارف الزوکا دونوں کو جامع مسجد الصالح میں دفن کیا جائے"۔

طاہر حزام نے ہفتے کے روز یمنیوں کے درمیان پھیلی تمام افواہوں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ "علی صالح کی میت نہ تو سرد خانے میں ہے اور نہ اسے عدن کے قبرستان میں دفنایا جا رہا ہے"۔