.

قذافی حکومت کی رقوم کا استعمال قانونی طریقے سے ہوا : لیبیا انویسٹمنٹ کارپوریشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں سرکاری انویسٹمنٹ کارپوریشن کا کہنا ہے کہ اس بات کے کوئی شواہد نہیں ملے کہ بیلجیم کے "یوروکلیز" بینک میں منجمد رقوم کے منافع کی رقم کا کوئی غلط استعمال کیا گیا ہے۔

بیرون ملک لیبیا کے اثاثوں اور منجمد او غیر منجمد سرمایہ کاری کے انتظامی امور کے ذمے دار ادارے نے جمعے کی شام جاری ایک بیان میں واضح کیا کہ "ادارے میں مالیاتی امور کے ماہرین کی ٹیم کی جانب سے جانچ پڑتال اور آڈٹ کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ گزشتہ برس جولائی میں مقرر کیے جانے والے موجودہ مینجمنٹ بورڈ کے دور میں ادارے کی رقوم کا کوئی غلط استعمال نہیں ہوا۔ علاوہ ازیں اس بات کا بھی کوئی ثبوت نہیں ملا کہ ادارے کے مالی اثانوں کو مسلح جماعتوں کی فنڈنگ کے واسطے استعمال میں لایا گیا"۔

انویسٹمنٹ کارپوریشن کا وضاحتی بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کہ لیبیا کے پارلیمنٹ نے ایک وفد برسلز بھیجا ہوا ہے۔ یہ وفد 2011ء سے بیلجیم میں منجمد لیبیائی رقوم کے منافع کے استعمال کے معاملے کی تحقیقات کرے گا۔

لیبیا کے رکن پارلیمنٹ جاب اللہ الشیبانی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دیے گئے ایک بیان میں بتایا کہ پارلیمنٹ نے حقیقت جاننے کے لیے مالیاتی کمیٹی کو اس معاملے کی پیروی کی ذمے داری سونپی ہے۔

واضح رہے کہ لیبیا کے انویسٹمنٹ کارپوریشن نے گزشتہ ہفتے انکشاف کیا تھا کہ یورپی یونین کے پانچ ممالک نے لیبیا کے اثاثوں کے منجمد کیے جانے کے نظام میں خلا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان مالی رقوم کے منافع میں اپنی مرضی سے تصرف کیا۔ یہ پانچ ممالک برطانیہ، اٹلی، جرمنی، لیگزمبرگ اور بیلجیم ہیں۔