.

مصر: پراسیکیوٹر جنرل کے قتل کے جُرم میں9 افراد کی سزائے موت برقرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی ایک اعلیٰ عدالت نے سابق پراسیکیوٹر جنرل ہشام برکات کے قتل کے جُرم میں نو افراد کو سنائی گئی سزائے موت برقرار رکھی ہے۔

مصر کے سابق پراسیکیوٹر جنرل ہشام برکات 29 جون 2015ء کو دارالحکومت قاہرہ میں ایک بم دھماکے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ وہ قریباً دوسال تک پراسیکیوٹر جنرل رہے تھے اور انھیں جولائی 2013ء میں عبدالمجید محمود کے مستعفی ہونے کے بعد اس عہدے پر مقرر کیا گیا تھا۔کسی گروپ نے ان پر بم حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی تھی لیکن شورش زدہ جزیرہ نما سیناء میں مصری سکیورٹی فورسز کے خلاف برسر پیکار جنگجوؤں پر اس حملے میں ملوّث ہونے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔

مصر کی ایک فوجداری عدالت دو سال کے بعد 2017ء میں 28 افراد کو قتل کے اس واقعے میں قصور وار قرار دے کر سزائے موت سنائی تھی۔ فیصلے کے وقت ان میں سے صرف 15 مدعاعلیہان حاضر تھے۔

عدالتی ذرائع کے مطابق مصرکی اعلیٰ عدالت اتوار کے روز ان 15 میں سے 9 افراد کی سزائے موت برقرار رکھی ہے اور باقی چھے افراد کی سزا کم کرکے عمر قید میں تبدیل کردی ہے۔باقی مدعاعلیہان کے خلاف فیصلے پر غور نہیں کیا گیا ہے کیونکہ انھیں عدالت نے عدم موجودگی میں سزائیں سنائی تھیں۔

مصر نے کالعدم مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کے جلاوطن عہدے داروں پر غزہ کی حکمراں فلسطینی جماعت حماس کے ساتھ مل کر ہشام برکات کو بم دھماکے میں ہلاک کرنے کا الزام عاید کیا تھا اوراس واقعے میں ملوّث ہونے کے الزام میں پندرہ افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

2016ء میں مصر کے وزیر داخلہ مجدی عبدالغفار نے ایک نیوز کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ ہشام برکات پر حملے کا حکم ترکی میں مقیم اخوان کے لیڈروں نے جاری کیا تھا اور اس کو حماس کے ساتھ مل کر عملی جامہ پہنایا گیا تھا۔انھوں نے حماس پر حملہ آوروں کو تربیت دینے اور دھماکا خیز مواد مہیا کرنے کا الزام عاید کیا تھا۔مصری حکام نے اخوان المسلمون کے اڑتالیس ارکان کو حملے کی سازش کے الزام میں گرفتار کیا تھا اور ان میں سے چودہ نے ہشام برکات کے قتل کا اعتراف کیا تھا۔

یادرہے کہ جولائی 2013ء میں مصر کی مسلح افواج کے اس وقت سربراہ( موجودہ صدر) عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے ملک کے مختلف علاقوں میں تشدد کے واقعات کا سلسلہ جاری ہے۔تاہم حالیہ چند مہینوں کے دوران سیناء میں تشدد کے واقعات میں کمی واقع ہوئی ہے۔

ڈاکٹر مرسی کی حکومت کے خاتمے کے بعد مصر میں اخوان المسلمون کے خلاف خونیں کریک ڈاؤن کیا گیا تھا اور اس قدیم جماعت کے ہزاروں کارکنان کو گرفتار کرکے پابند سلاسل کردیا گیا تھا۔ مصری عدالتیں ان میں سے سیکڑوں افراد کو لمبی مدت کی قید یا سزائے موت سنا چکی ہیں۔مصری حکومت نے دسمبر 2013ء میں اخوان المسلمون کو دہشت گرد ی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں کالعدم جماعت قرار دے دیا تھا۔

کالعدم اخوان المسلمون کے حامی مصری عدلیہ پر سیاسی فیصلے جاری کرنے اور اس جماعت کے مرشد عام محمد بدیع اور برطرف صدر محمد مرسی سمیت اعلیٰ قائدین کو معمولی جرائم پر موت اور دوسری سنگین سزائیں سنانے کے الزامات عاید کرچکے ہیں ۔تاہم سیاسی لیڈروں اور کارکنان کو سنائی گئی پھانسی کی سزاؤں پر ابھی تک عمل درآمد کی نوبت نہیں آئی ہے۔