.

یمنی فوج نے صعدہ میں دفاعی اہمیت کا علاقہ باغیوں سے چھین لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی سرکاری فوج نے ہفتے کے روز گھمسان کی جنگ کے بعد حوثی باغیوں کے گڑھ صعدہ گورنری کا دفاعی اعتبار سے انتہائی اہم علاقہ "الظاھر ڈاریکٹوریٹ" ان سے آزاد کرلیا۔ اطلاعات کے مطابق لڑائی میں حوثی باغیوں کو بھاری جانی اورمالی نقصان بھی اٹھانا پڑا ہے جب کہ سرکاری فوج اب الظاھر کے بعد حیدان ڈاریکٹوریٹ کی طرف بڑھ رہی ہے۔

یمنی فوج کے مطابق صعدہ گورنری کے جنوب مغرب میں واقع "الظاھر" ڈائریکٹوریٹ سے باغیوں کی شکست فوج کی بہت بڑی کامیابی ہے جس کے بعد پوری گورنری کو باغیوں سے چھڑانے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

یمن کی مسلح افواج کے شعبہ اطلاعات کی طرف سےجاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ الظاھر ڈاریکٹوریٹ میں باغیوں کے خلاف کارروائی میں انہیں عرب اتحادی فوج کی فضائی معاونت بھی حاصل رہی۔ فوج نے الظاھر شہر، مرکزی بازار، الملاحیظ، مثلث مران،حکومتی آڈیٹوریم اور سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن سمیت دیگر تمام مقامات سے باغیوں کو نکال باہر کیا ہے۔

عسکری ذرائع کے مطابق سرکاری فوج نے پیش قدمی کرتے ہوئے الظاھر کے مشرقی علاقے الملاحیظ میں عقبہ ترانی، الکسارہ کارخانہ،شمال میں تبہ القیادہ، تبہ الوصاغی اور اس کے اطراف میں حوثیوں کے فوجی ٹھکانوں سے باغیوں کو نکال باہر کیا ہے۔

خیال رہے کہ ملاحیظ شہر کی دفاع اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس شہر کو حجہ گورنری کے حرض شہر کے ذریعے سعودی عرب سے ملایا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ مران، شدا اور رازح کے علاقوں سے بھی سعودی عرب تک رسائی ممکن ہے۔

ادھرصعدہ گورنری کے ایک دوسرے علاقے باقم میں بھی سرکاری فوج اور باغیوں کے درمیان گھمسان کی جنگ جاری ہے۔