.

تیل اور گیس کے وسائل سے مالا مال ایران کے40 فی صد عوام غریب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں مزدوروں اور بے روز گار افراد کے احتجاجی مظاہروں کے بعد اب غربت سے تنگ دیگر طبقات بھی معاشی ابتری کی وجہ سے حکومت کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ تازہ احتجاجی مظاہرے ایران کے عرب اکثریتی شہر الاھواز اور السوس میں کیے گئے جن میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔


ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی پابندیوں، بد انتظامی اور کرپشن کی وجہ ایران میں کئی بڑے بڑے کارخانے اور فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں۔ حال ہی میں ایران میں گاڑیوں کے اسپیئرپارٹس تیار کرنے والی فیکٹریوں‌نے 1 لاکھ ملازمین کو فارغ کردیا۔ یہ سب کچھ اس ملک میں ہو رہا ہے جس کا نعرہ ہی غربت کا خاتمہ ہے۔ ایران کے موجودہ برسراقتدار مذہبی ٹولے نے"کمزوروں اور محروموں کی مدد" کو اپنا نعرہ اور شعار بنایا۔ اس نعرے کے ساتھ ساتھ ایران دنیا میں تیل اور گیس سپلائی کرنے والا ایک بڑا ملک ہے۔ مگر اس کے باوجود ایرانی عوام کی زبوں حالی، غربت، پسماندگی اور بے روزگاری اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران کے قدرتی وسائل وہاں کے لوگوں کی بہبود کے بجائے دوسرے ممالک میں مداخلت جیسے جرائم پر صرف ہو رہے ہیں۔

ایران میں غربت اور بے روزگاری کے تیزی سے پھیلتے ناسورکے خلاف نہ صرف اپوزیشن کی جانب سے آواز بلند کی جا رہی ہے عوامی سطح پر مظاہرے اور پارلیمنٹ جیسے ریاستی ادارے بھی اس پرآواز اٹھا رہے ہیں۔ یہ سب ایران میں غربت اور قحط وافلاس پر یک زبان ہیں۔

"اعتماد آن لائن" ویب سائیٹ کی رپورٹ کے مطابق پارلیمنٹ کی سماجی بہبود کمیٹی کے رکن رسول خضری نے کہا کہ مہنگائی کی وجہ سے بے غربت کی لکیر تبدیل ہوگئی ہے۔ ایران کے دیگر شہروں میں 5 ملین تومان اور دارالحکومت تہران میں ایک کروڑ تومان لینے والے بھی غربت کی لکیر سے نیچے ہیں۔ یہ اندازہ اور حساب اس وقت لگایا گیا جب ایک امریکی ڈالر 13 ہزار 500 ایرانی تومان تک گرگیا۔

خضری نے خبردارکیا اقتصادی ماہرین بتاتے ہیں کہ ایران میں 40 فی صد افراد خط غربت سے نیچے زندگی گذار ہیں، ان میں سے 32 فی صد انتہائی غریب ہیں۔

ایرانی اقتصادی تجزیہ نگار حسین راغفر پہلے ایرانی دانشور ہیں جنہوں‌نے ایران میں 40 فی صد غربت کا انکشاف کیا۔

انہوں‌نے بتایا کہ شہری علاقوں میں رہنے والے افراد کی اوسط آمدن ماہانہ 4 ملین تومان یعنی 296 امریکی ڈالر ہے۔ اس اعتبار سے ایران میں غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گذارنے والے لوگوں کی تعداد 33 فی صد ہے، جب کہ 6 فی صد لوگ بدترین قحط کا شکار ہیں۔