.

عراق:کرکوک کا 200 سال پرانا تاریخی بازار راکھ کا ڈھیر

آگ سازش کے تحت لگائی گئی، ایک ارب ڈالر کا نقصان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کی کرکوک گورنری کا ایک تاریخی بازار آتش زدگی کے نتیجے میں راکھ کا ڈھیر بن گیا۔ مقامی تاجر برادری کا کہنا ہے کہ کرکوک کے 200 سال پرانے القیصریہ تاریخی بازارکو منظم منصوبے کے تحت آگ لگائی گئی۔

کرکوک بازار میں جیولری مارکیٹ کی یونین کے چیئرمین حقی اسماعیل نے بتایا کہ آگ سوموار کی رات القیصریہ بازار میں لگی۔ آتش زدگی کے نتیجے میں ایک ارب ڈالر کے ہیرے جواہرات، سونا چاندی،نقدی اور دیگرسامان جل کر راکھ گیا۔

ادھر کرکوک کے گورنر راکان سعید الجبوری کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ القیصریہ بازار کے نذرآتش ہونے کے افسوسناک واقعے کی تحقیقات کے ساتھ ساتھ بازار کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے وزارت ثقافت کے ساتھ مل کر کام شروع کیا جا رہا ہے۔

عراقی وزارت ثقافت اور کرکوک گورنر نے تاریخی بازار میں ہونے والی آتش زدگی کی مشترکہ تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نذرآتش ہونے والا بازار کرکوک کی ثقافتی اور تہذیبی علامت تھا جسے شرپسند عناصر نے غیر معمولی نقصان پہنچایا ہے۔

اسی سیاق میں ترکمانی فرنٹ کے چیئرمین اور کرکوک سے عراقی پارلیمنٹ کے منتخب رکن ارشد الصالحی نے ایک بیان میں کہا کہ القیصریہ بازار میں آتش زدگی بجلی کے شارٹ سرکٹ کا نتیجہ نہیں بلکہ آگ مُنظم سازش کے تحت لگائی گئی۔ اس کا مقصد تاریخی اور ثقافتی اہمیت کے حامل بازار سے کرکوک کو محروم کرنا ہے۔

الصالحی کا کہنا تھا کہ القیصریہ بازار 200 سال پرانا ہے۔ اس میں لگے خفیہ کیمروں کی ریکارڈنگ سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ منصوبہ بندی کے تحت لگائی گئی۔

مقامی ذرائع کے مطابق آتش زدگی کے نتیجے میں 350 دکانیں جل کر راکھ ہو گئیں تاہم کسی قسم کے جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

خیال رہے کہ کرکوک کا القیصریہ بازار 1805ء میں خلافت عثمانیہ کےدور میں‌قائم کیا گیا۔ اس بازار میں ماضی میں بھی آتش زدگی ہوتی ہی ہے مگر یہ پہلاموقع ہے کہ اس میں تین داخلی راستے 28 باہرجانے کے راستے،365 دکانیں اور 22 گودام جل کر راکھ ہوگئے۔