.

ایران مشرق وسطیٰ میں لگی آگ کا ذمہ دار ہے: میتھیو ٹوئلر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں امریکی سفیر میتھیو ٹوئلر نے کہا ہے کہ ایران خطے میں عدم استحکام کو بڑھاوا دینے والا مرکزی کردار ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے یمن کی آئینی حکومت کو مدد فراہم کرنے والی عرب اتحاد کی کوسٹ گارڈ فورس کی جانب سے حضر موت کے علاقے میں پٹرولنگ کی ذمہ داری یمنی کوسٹ گارڈز کے حوالے کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران اس سلسلے میں جو کچھ کر رہا ہے۔ اس کی وضاحت کے لئے یہ مقولہ کافی ہے کہ ’’تہران، جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کر رہا ہے۔‘‘ یعنی ایران مشرق وسطیٰ میں بحرانوں کو ہوا دے رہا ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ خطے میں جہاں بھی عدم استحکام ہو گا، تو مجھے کہنے دیجئے کہ اس عدم استحکام کے ڈانڈے ایران سے جا ملتے ہیں۔ وہ اس صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور اس مقصد کے لئے مذہبی، سیاسی اور غربت جیسے حالات کو اپنی پالیسیوں کے لئے بطور ڈھال استعمال کرتے ہیں۔ ایران دراصل ہم سب کے لئے اہم خطے میں جلتی پر تیل کا کام کرتا ہے۔

ایران کی انہی پالیسیوں کی وجہ سے یمن کو آج ایسی صورت حال کا سامنا ہے کیونکہ ایران نے باغیوں کو لامحدود سپورٹ فراہم کی جس سے شہ پا کر انہوں نے آئینی حکومت کا تختہ الٹ ڈالا۔

’’چہار سو فساد‘‘

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یمن میں سعودی سفیر محمد آل جابر نے کہا کہ ایران کی جا بجا مداخلت سے یہ بات عیاں ہے کہ وہ قیام امن کا اہل نہیں ہے۔

انہوں نے اپنی بات کی وضاحت جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’’ایران علاقے میں فساد پیدا کر رہا ہے۔ وہ یمن سے لے کر عراق، بحرین، شام اور لبنان میں حزب اللہ کی مدد سے یہ شور شرابا کر رہا ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ ایسے اقدامات کرنے والے امن کی کوئی خدمت کر سکتے ہیں۔‘‘

ایران کے لئے امریکا کے نمائندہ خصوصی برائین ہک نے جمعرات کے روز کہا تھا کہ ایران، حوثی باغیوں کو ایسا اسلحہ فراہم کر رہا ہے جس کی مدد سے وہ اتحادی فضائیہ کے طیاروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں ایران کا پھیلاو امریکی فورسز کے لئے خطرہ ہے۔ تہران حکومت اپنے اسلحہ کے زور پر ’’انقلاب‘‘ برآمد کرنے کی پالیسی پر عمل کر رہی ہے۔ نیز وہ مشرق وسطیٰ کے امن واستحکام کو تہ وبالا کرنے میں بھی مصروف ہے۔