.

برطانوی خاتون زیادتی کے بعد وحشیانہ انداز میں قتل، قطری شہر کو برائے نام سزا

مجرم ھاشم خمیس الجابر کو پانچ سال قید کی سزا پر مقتولہ کے خاندان کی قطر پر شدید تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ کی ایک خاتون نے قطر کی عدلیہ پر شدید تنقید کی ہے۔ قطری عدالت نے برطانوی خاتون شہری کی آبرو ریزی کے بعد اسے قتل کرنے اور اس کی لاش کو نذر آتش کرنے کے والے مجرم کو صرف پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے۔ قطری عدالت کے ’’غیر منصفانہ‘‘ فیصلے پر مقتولہ کے خاندان نے قطری حکومت اور عدلیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق قطر کی ایک فوج داری عدالت نے مقامی شہری کو برطانیہ کی 24 سالہ لورین پیٹرسن کو سنہ 2013ء کو ریپ کے بعد قتل کرنے اور اس کی لاش کو جلانے کے الزام میں پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق مجرم نے مقتولہ کی لاش ایک صحرا میں لے جا کر نذرآتش کردی تھی۔

برطانوی اخبار"دی سن" کے مطابق قطر کی عدالت نے ملزم کو پہلے فیصلے میں سزائے موت سنائی تھی۔ اس نے سزا کے خلاف اپیل کی توعدالت نے اس کی سزائے موت 10 سال قید میں تبدیل کر دی مگر اب عدالت نے اس کی سزا میں تخفیف کرتے ہوئے صرف پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے۔

مقتولہ کی والدہ الیسن پیٹرسن نے قطری عدالت کے فیصلے پر سخت مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قطری عدالت نے ظالم کا ساتھی ہونے کا ثبوت دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ قطری عدلیہ کی طرف سے ایک خاتون کی آبرو ریزی، اس کے قتل اور اس کے بعد اس کی لاش کو ختم کرنے کے لیے جلانے جیسے سنگین جرائم میں ملوث شخص کو کیسے بچایا گیا۔ یہ فیصلہ قطری عدلیہ کے ماتھے پر بدنما داغ اور عدلیہ کے فیصلوں میں نا انصافی کا کھلا ثبوت ہے۔