.

شام کا اسرائیلی جنگی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ، اسرائیل کی تردید

جنوبی دمشق میں مختلف اہداف پر اسرائیلی فضائی حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی ذرائع ابلاغ نے شامی سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ شام کی سرکاری فوج نے اسرائیل کا ایک جنگی طیارہ مار گرایا اور چار میزائل ہدف سے پہنچنے سے قبل تباہ کر دیے ہیں۔ دوسری جانب اسرائیل نے طیارہ مار گرائے جانے کی خبروں کی سختی سے تردید کی ہے۔

ذرائع کے مطابق شامی دفاعی فورس نے جنوبی دمشق کے فوجی اہداف پر اسرائیل کی طرف سے داغے متعدد میزائل فضاء میں تباہ کر دیے۔

دوسری جانب شامی اپوزیشن کا کہنا ہے کہ میزائلوں سے ایرانی حمایت یافتہ گروپوں کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

خطے کے دو سینیر انٹیلی جنس ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی طیاروں نے جس علاقے کو بمباری سے نشانہ بنایا ہے وہاں شامی فوج کا ایک ٹیلی کمیونیکیشن اور لاجسٹک سیںٹر قائم ہے، جس میں ایرانی ملیشیا اور حزب اللہ کے جنگجو موجود ہیں۔

درایں اثناء اسرائیلی فوج کی طرف سے "ٹوئٹر" پر جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شام کی جانب سے زمین سے فضاء میں مار کرنے والے میزائلوں کا دعویٰ بے بنیاد ہے۔ شامی فوج کی طرف سے ایک گولہ داغا گیا جو وادی گولان میں گرا ہے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ فی الحال یہ واضح ‌نہیں ہوا کہ شام کی طرف سے داغے گئے گولے سے کوئی نقصان ہوا ہے یا نہیں۔ فوج کی تحقیقاتی ٹیمیں علاقے میں پہنچ گئی ہیں۔ جہاں تک فوج کے جنگی طیارے کو نشانہ بنانے کی بات ہے تو وہ سرا سر بے بنیاد ہے۔

قبل ازیں شام کےسرکاری ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا تھا کہ فضائیہ نے اسرائیل کا ایک جنگی طیارہ مار گرایا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی جنگی طیارے کو الکسوہ کے مقام پر مار گرایا گیا۔ تاہم ذرائع ابلاغ میں اس واقعے کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔