حوثی ملیشیا یمنی عوام کو ولایت فقیہ کے ساتھ نتھی کرنا چاہتی ہے: یمنی وزیر تعلیم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

حال ہی میں منظر عام پر آنے والی وڈیو میں ایک حوثی ٹیچر بچوں کے گروپ کو جنگ میں لڑائی کی تربیت دیے جانے پر فخر کا اظہار کر رہا ہے۔ اس تربیت کا مقصد بچوں کو تیار کر کے لڑائی کے محاذوں پر بھیجنا ہوتا ہے۔

یہ اپنی نوعیت کا کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ اس سے قبل حوثی ملیشیا کی جانب سے اپنی حکومت میں مقرر کردہ وزیر تعلیم یحییٰ الحوثی (حوثیوں کے سرغنہ کے بھائی) نے محکمہ تعلیم کو دی گئی ہدایت میں اسکولوں میں صبح کی اسمبلی کے دوران حوثی ملیشیا کے حق میں نعرہ لگانے کو لازم قرار دیا تھا۔

اس کے علاوہ باغیوں کی حکومت میں نوجوانوں اور کھیلوں کے وزیر حسن زید اس بات کی کھلی دعوت دے چکے ہیں کہ تعلیم و تدریس کا سلسلہ روک کر طلبہ اور ان کے اساتذہ کو جنگ کے محاذوں پر بھیجا جائے۔ اس طرح حوثیوں کو لاکھوں جنگجو میسر آ جائیں گے۔

بعض طلبہ کے اہل خانہ کے مطابق حوثیوں کے زیر کنٹرول اسکولوں میں اساتذہ نے ان کے بچوں کو گھر والوں کے علم میں لائے بغیر ہی بھرتی کر لیا۔ بعد ازاں گھر والوں کے سامنے یہ انکشاف ہوا کہ ان کے بچوں کی لاشیں لڑائی کے محاذوں سے واپس آئی ہیں۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ ان کو اس حوالے سے فتوے پیش کیے گئے جن کے مطابق گھر والوں یا سرپرستوں کو بتائے بغیر لڑائی کے محاذوں پر جانے کا جواز بتایا گیا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے یمن کی آئینی حکومت کے وزیر تعلیم ڈاکٹر عبداللہ لملس سے گفتگو کی۔ انہوں نے بتایا کہ "مذکورہ ٹیچر کی وڈیو کے مناظر اس بات کی حقیقی اور نمایاں دلیل ہے کہ باغی حوثی ملیشیا یمنی بچوں کو بھرتی کر کے عسکری تربیت دے رہی ہے تا کہ انہیں اپنی جنگ کی آگ میں جھونک سکیں۔ یہ بھرتیاں حوثیوں کی جانب سے انسانیت اور اخلاقیات سے متعلق تمام تر بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزیوں کا سب سے بڑا ثبوت ہے"۔

ڈاکٹر عبداللہ کے مطابق حوثی ملیشیا یمنی عوام کو ایران میں مسلط ولایت فقیہ کے نظام کے ساتھ جوڑنا چاہتی ہے جو کہ اس مسلح ملیشیا کی بہکی ہوئی پالیسیوں کی دلیل ہے۔ یمنی وزیر نے انسانی حقوق کی تمام بین الاقوامی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ آئینی اور منتخب یمنی حکومت کا تختہ الٹنے والی باغی ملیشیا کی پر زور مذمت کریں۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ حوثی ملیشیا نے اپنے زیر قبضہ علاقوں میں 2500 سے زیادہ اسکولوں کو جزوی طور پر تباہ کر دیا۔ باغیوں نے اسکولوں اور تعلیمی اداروں کی عمارتوں کو قید خانوں اور عسکری بیرکوں میں تبدیل کر ڈالا اور تعلیمی نصاب کو بھی بدل کر اس میں اشتعال انگیزی، تشدد اور نفرت پر مبنی مواد شامل کر دیا۔

یمن میں بچوں کی مجموعی بھرتیوں میں 75% کارروائیوں کی ذمے دار حوثی ملیشیا ہے۔ یمن کی انسانی حقوق کی وزارت کے مطابق حوثی ملیشیا نے 2015 سے 2018 کے درمیان 10 ہزار یمنی بچوں کو بھرتی کر کے انہیں جنگ کی بھٹی میں جھونک دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں