شام: سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے ہاتھوں داعش کا خطر ناک ترین دہشت گرد گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

کرد اور عرب گروپوں پر مشتمل "سیرین ڈیموکریٹک فورسز" (ایس ڈی ایف) نے جمعے کے روز اعلان کیا ہے کہ اس نے شام کے مشرق میں داعش تنظیم کے ایک اہم ذمے دار کو گرفتار کر لیا۔

ایس ڈی ایف کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ گرفتار ہونے والا کمانڈر اسامہ عوید الصالح داعش تنظیم کے خطر ناک ترین دہشت گردوں میں سے ہے۔ تاہم دوسری جانب شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمن کا کہنا ہے کہ "اسامہ عوید صالح شام کے صوبے دیر الزور میں محض داعش کا ایک سابق مقامی عہدے دار تھا۔ وہ تنظیم کے غیر فعال سیل کا رکن ہو سکتا ہے"۔

واشنگٹن کے زیر قیادت بین الاقوامی اتحاد کی حمایت یافتہ ایس ڈی ایف کے بیان کے مطابق "صالح دیر الزور میں دہشت گردوں کا ایک سکیورٹی ذمے دار تھا۔ اس نے عراق کی سرحد کے ساتھ واقع صوبے میں دہشت گرد تنظیم داعش کی 40 سے زیادہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درامد میں براہ راست حصہ لیا"۔

ایس ڈی ایف نے بیان میں بتایا ہے کہ صالح کو گزشتہ ماہ بائیس نومبر کو دیر الزور میں اس کے گاؤں الطیانہ میں گھات لگا کر پکڑا گیا۔

واضح رہے کہ داعش تنظیم دیر الزور صوبے کے مشرقی دیہی علاقے میں اپنے بچے کھچے زیر قبضہ علاقوں کا دفاع کرنے کے لیے گھمسان کی معرکہ آرائی میں مصروف ہے۔ اسے دو ماہ سے زیادہ عرصے سے ایس ڈی ایف کی جانب سے عسکری آپریشن کا سامنا ہے۔ اس آپریشن میں ایس ڈی ایف کو امریکا کے زیر قیادت بین الاقوامی اتحاد کی سپورٹ حاصل ہے۔

المرصد نگراں گروپ کے مطابق داعش کے جنگجوؤں نے گزشتہ ہفتے علاقے میں ایس ڈی ایف کے ٹھکانوں پر بھرپور حملہ کر کے اس کے 92 ارکان کو ہلاک کر دیا تھا۔

ستمبر میں سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد سے اس کے 452 ارکان اور داعش تنظیم کے 739 دہشت گرد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔

اس دوران ایس ڈی ایف نے شدت پسند تنظیم داعش کے ہزاروں مسلح ارکان کو گرفتار کیا جن میں جانے پہچانے غیر ملکی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں