عراق: داعش تنظیم کی جانب سے اغوا کیے جانے والے افراد کی فروخت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراق کے شہر موصل میں تحقیقی عدالت نے اس عورت کے بیان کی توثیق کر دی ہے جس نے داعش تنظیم سے 400 ڈالر کے عوض ایک بچی خریدی تھی۔ سپریم جوڈیشل کونسل کے بیان کے مطابق خاتون ملزم کے شوہر نے 2014 میں مذکورہ بچی کے خریدے جانے کے معاملے کی تصدیق کی۔

اس نے واضح کیا کہ داعش تنظیم کے نینوی صوبے میں داخل ہونے پر جب کہ وہ تلعفر ضلع میں تھا اس کی بانجھ بیوی داعش کی شرعی عدالت گئی تا کہ اس بچی کو خریدا جا سکے۔

اس شخص کے مطابق وہ خود پر عائد الزام سے بری ہے کیوں کہ اپنی بیوی کے ساتھ بچی خریدنے کے واسطے داعش کی عدالت نہیں گیا تھا۔

دوسری جانب خاتون ملزم کا کہنا ہے کہ داعش تنظیم کنٹرول حاصل کرنے کے بعد یزیدی بچوں کو فروخت کر رہے تھے۔ اس پر وہ بچی خریدنے کے واسطے چلی گئی کیوں کہ وہ ماں نہیں بن سکتی تھی۔ داعش تنظیم کے عناصر کے ساتھ ایک سمجھوتے کے تحت خاتون نے اس چار ماہ کی بچی کو 400 ڈالر میں خرید لیا اور اس کا نام "عائشہ" رکھا۔

خاتون ملزم نے مزید بتایا کہ داعش تنظیم کے شہر سے نکل جانے کے بعد اس نے اپنے سسر کو بتایا کہ وہ بچی کی حوالگی کی خواہش مند ہے۔ تاہم عراقی انٹیلی جنس کی فورسز نے گھر پر چھاپا مار کر خاتون کو حراست میں لے کر بچی کو اس کے گھر والوں کے حوالے کر دیا۔

خاتون نے باور کرایا کہ وہ بچوں کی تجارت کے الزام سے بری ہے کیوں کہ وہ اس ننھی بچی کی تربیت کا ارادہ رکھتی تھی ،،، تاہم عدالت نے انسانی تجارت کے قانون کے تحت خاتون پر بچی کو خریدنے کا الزام عائد کیا۔

واضح رہے کہ داعش تنظیم کے قبضے میں آنے والے درجنوں بچوں اور لڑکیوں کا انجام ابھی تک معلوم نہیں ہے۔

موصل میں تحقیقاتی عدالت کے جج نے اشرف صالح العبادی نے ایک اخباری گفتگو میں واضح کیا کہ عراقی وزارت داخلہ انسانی تجارت کے انسداد کے واسطے اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں مؤثر منصوبہ بندی اور پروگراموں پر عمل کیا جا رہا ہے۔ علاوہ ازیں بین الاقوامی سمجھوتوں کے مطابق انسانی تجارت سے متعلق رپورٹیں تیار کی جا رہی ہیں۔

العبادی کے نزدیک عمل درامد کے زاویے سے ملکی قانون اب بھی کمزوری کا شکار ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں