.

ایرانی وزیر دفاع کا یمن کے حوثیوں کی مدد کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی وزیر دفاع امیرحاتمی نے اعتراف کیا ہے کہ ان کا ملک یمن میں حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے والے حوثی باغیوں کی مدد کر رہا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ایران کی طرف سے حوثیوں کو صرف "معنوی" امداد دی جا رہی ہے۔

ایرانی وزیر دفاع کی جانب سے حوثیوں کی "معنوی" امداد کا دعویٰ دُنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ ایرانی عہدیدار بار بار یہ تسلیم کرچکے ہیں کہ تہران کی جانب سے حوثیوں کو اسلحہ، مالی مدد، عسکری ماہرین اور میزائل بھی مہیا کیے جا رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے"ایسنا" کے مطابق ایک بیان میں وزیر دفاع حاتمی نے کہا کہ یمن میں حوثیوں کو دی جانے والی ہماری امداد صرف معنوی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت یمن امریکیوں کی آنکھوں میں کانٹا بن کر کھٹک رہا ہے۔

حال ہی میں امریکی وزارت خارجہ نے ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں یمن کے‌حوثی باغیوں کو ایران کی جانب سے فراہم کی جانے والی عسکری، مالی اور دفاعی امداد کی تفصیلات بیان کی گئی تھیں۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے ڈپٹی چیف بریگیڈیئر جنرل حسین سلامی نے 22 نومبرکو تہران میں حوثیوں کے حوالے سے ہونے والی ایک کانفرنس سے خطاب میں کہا تھا کہ تہران حوثیوں کو ہرطرح کی مدد فراہم کررہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حوثیوں کی مدد بھائی چارے اور اتحاد کا حصہ ہے۔