.

ایران : اہواز اسٹیل کے ورکرز کی ہڑتال 17 روز سے جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں اتوار کے روز سوشل میڈیا پر "اہواز اسٹیل کمپنی" کے ورکرز کی ہڑتال سے متعلق خبروں کا چرچا رہا جو گزشتہ 17 روز سے جاری ہے۔ سوشل میڈیا پر صبح سے ہی اہواز کی سڑکوں پر اور سرکاری محکموں کے سامنے ورکرز کے احتجاجی مظاہروں کی تصاویر اور وڈیو کلپس گردش میں رہیں۔

ورکرز کی جانب سے لگائے جانے والے نعروں میں "تم لوگوں نے اسلام کو سیڑھی بنا کر لوگوں کو ذلیل کیا" ، "نصر من الله وفتح قريب" ، "دھوکے باز حکومت مردہ باد" ، "شام کو چھوڑ کر ہمارے حال کی فکر کرو" اور "انتخابات میں شرکت کی قیمت مہنگائی" شامل ہیں۔

یاد رہے کہ "اہواز اسٹیل کمپنی" پہلے ریاست کی ملکیت میں تھی تاہم بدعنوانی کے معاملات کے بعد اس کی نج کاری عمل میں لائی گئی۔

ورکرز کی احتجاجی تحریک کا آغاز اس وقت ہوا جب انہوں نے کئی ماہ سے تاخیر کا شکار اپنی تنخواہوں کی ادائیگی کا مطالبہ کیا۔ ورکرز کے پر امن احتجاج کے باوجود حکام کی جانب سے جوابی اقدام کے طور پر سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری کو تعینات کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں فریقین کے درمیان تصادم کی نوبت آ گئی۔ ورکرز کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران مظاہرین کی گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں۔

دوسری جانب حکومتی عہدے داران کی جانب سے جھوٹا پروپیگنڈا کیا جاتا رہا کہ ریاست نے ورکرز کی دو ماہ کی تنخواہیں ادا کر دی ہیں اور پیداوار ایک بار پھر شروع ہو گئی ہے۔

ایسا نظر آ رہا ہے کہ اہواز اسٹیل کے ورکروں کو احساس ہو گیا ہے کہ ایرانی ذمے داران کے ساتھ بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ لہذا ان لوگوں نے اپنے مطالبات کے پورے ہونے تک مظاہروں اور احتجاج کا سلسلہ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اہواز اسٹیل کے ورکروں کے مطابق ان کے اہم مطالبات میں نج کاری کی جانے والی کمپنیوں کی سرکاری سیکٹر میں واپسی اور ورکرز یونین کے سرگرم کارکن اسماعیل بخشی سمیت گرفتار کیے جانے والے تمام ورکرز کی رہائی شامل ہے۔ انجمن کے ورکروں کا کہنا ہے کہ بخشی کو دوران حراست زدوکوب کے دوران سر اور چہرے پر مارا گیا جس کے نتیجے میں اس کا چہرہ سوج گیا ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ رواں سال ایران میں سرکاری اور غیر سرکاری سیکٹروں میں ورکروں کی جانب سے احتجاجی سلسلے میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔