.

حوثی باغی سویڈن مذاکرات میں رکاوٹیں کھڑی کرنے لگے

سویڈن امن مذاکرات غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے حوثی باغیوں‌ نے سویڈن کی میزبانی میں ہونے والے مذاکرات میں عدم شرکت کے

ذریعے مذاکرات کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے لگے ہیں۔ دوسری جانب یمن میں عرب فوجی اتحاد نے صنعاء سے حوثیوں کے زخمیوں کو علاج کے لیے بیرون ملک لے جانے کی اجازت دے دی ہے۔

'العربیہ' کے مطابق حوثی باغی سویڈن مذاکرات کو کامیاب بنانےکے بجائے انہیں ناکام کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔ حالانکہ عرب اتحادی فوج اور یمنی حکومت نے اعتماد سازی کے لیے فضاء ہموار کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔

دوسری جانب عرب اتحادی فوج نے صنعاء سے زخمیوں‌کو اومان لے جانے کی اجازت دی ہے، مگر خدشہ ہے کہ زخمیوں میں صنعاء سے ایرانیوں کو بھی بیرون ملک منتقل کیاجا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق یمنی حکومت سویڈن میں اقوام متحدہ کی زیرنگرانی مذاکرات کے لیے تیار ہے مگر مذاکرات کی کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی ہے۔

پہلے سویڈن مذاکرات کے لیے کل چار دسمبر کی تاریخ مقرر کی گئی تھی مگر حوثیوں کی طرف سے عدم شرکت کے بعد مذاکراتی عمل موخر کردیا گیا ہے۔ امکان ہے کہ بات چیت چھ دسمبر کو شروع ہوگی۔

اماراتی اخبار"البیان" نے یمن کے ایک سیاسی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ یمن سے حوثیوں کو سویڈن لے جانے کے لیے خصوصی طیارہ کویت مہیا کرےگا۔ حوثی مذاکراتی وفد اسی طیارے پر اسٹاک ہوم جائے گا۔

تاہم حوثیوں کی طرف سے صنعاء میں اپنے 50 زخمیوں کو علاج کے لیے بیرون ملک لے جانے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ عرب اتحادی فوج کا کہنا ہے کہ وہ عالمی اداراہ صحت کے تعاون سے زخمی حوثیوں کو بیرون ملک لے جانے کی اجازت دینے کو تیار ہے۔

اس سلسلے میں عرب اتحاد نے زخمیوں کی تفصیلات طلب کی ہیں مگر حوثی باغیوں نے فہرست دینے سے انکار کردیا ہے۔ خدشہ ہے کہ حوثی باغی صنعاء میں موجود ایرانی اور حزب اللہ ملیشیا کے ارکان کو وہاں سے نکالنے کی کوشش کررہے ہیں۔