.

مصر : حسنی مبارک معزول صدر مرسی کے مقدمے میں غیر حاضر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے سابق صدر حسنی مبارک اتوار کے روز جیلوں پر حملے سے متعلق اُس مقدمے کی سماعت میں حاضر نہیں ہوئے جس میں معزول صدر محمد مرسی اور الاخوان المسلمین کے دیگر 28 رہ نماؤں کے خلاف عدالتی کارروائی کی جا رہی ہے۔

حسنی مبارک کے وکیل فرید الدیب کے مطابق ان کے مؤکل کی غیر حاضری کا سبب یہ ہے کہ حسنی مبارک ابھی تک مصری فضائیہ کے ایئر مارشل ہیں لہذا مسلح افواج کی منظوری کے بغیر ان کی عدالت میں پیشی یا گواہی دینے سے متعلق اعلان نہیں کیا جانا چاہیے۔

دوسری جانب استغاثہ کا کہنا ہے کہ اس نے سرکاری طور پر نیشنل سکیورٹی سیکٹر کو نوٹیفکیشن کے ذریعے آگاہ کر دیا تھا کہ حسنی مبارک ایک شہری ہیں اور اب کسی بھی عسکری حیثیت کے حامل نہیں رہے۔ اسی وجہ سے ان کے نام کا اعلان بطور عسکری اہل کار نہیں بلکہ ایک شہری کے طور پر کیا گیا۔

یاد رہے کہ 2015ء میں قاہرہ کی فوجداری عدالت نے معزول صدر محمد مرسی، الاخوان کے رہبر عام محمد بدیع ، ان کے نائب رشاد البیومی اور تنظیم کے دیگر کئی رہ نماؤں کے خلاف پھانسی کی سزا سنائی تھی۔ تاہم بعد ازاں کورٹ آف کیسیشن نے ان فیصلوں کو منسوخ کر کے ان افراد کے خلاف از سر نو عدالتی کارروائی کا حکم دیا تھا۔

استغاثہ کی جانب سے مذکورہ شخصیات پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے نومبر 2011 کے انقلاب کے دوران مصر کی مشرقی سرحد پر واقع جیلوں پر حملے کیے تا کہ وہاں پر قید اپنے رہ نماؤں کو فرار کروا سکیں۔ اس دوران متعدد فوجی افسران اور اہل کاروں کو ہلاک کر دیا گیا۔ کارروائی میں حزب اللہ، حماس اور ایرانی پاسداران انقلاب کے عناصر کی مدد حاصل رہی۔