ڈنمارک : ناپسندیدہ مہاجرین کو غیر آباد جزیرے منتقل کرنے کی مںصوبہ بندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ڈنمارک کی حکومت ناپسندیدہ مہاجرین کو ایسے مقام پر منتقل کرنے کا ارادہ کر رہی ہے جو کسی بھی انسان کی سوچ میں آنے والی بدترین جگہ ہو سکتی ہے۔ یہ ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے جہاں پہنچنا ایک دشوار امر ہے۔ اس جگہ جانوروں کی بیماریوں مثلا سُور کا طاعون اور مرضِ کلب سے متعلق ایک تحقیقی مرکز، تجربہ گاہ اور جانوروں کے اصطبل کے علاوہ خطرناک اور آلودہ فضلہ جات بھی پائے جاتے ہیں۔

ڈنمارک کی وزیر برائے امیگریشن انگر اسٹوژ برگ نے یکم دسمبر کو فیس بک پر ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ حکومت نے جرائم میں قصور وار ٹھہرائے جانے والے مہاجرین کو اور اُن مہاجرین کو جن کی پناہ کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں اور ان کا اپنے اصل وطن لوٹنا ممکن نہیں ہے ،،، ایسے تقریبا 100 افراد پر مشتمل گروپ کو جزیرہ Lindholm منتقل کیا جائے گا۔ یہ جزیرہ ڈنمارک کے ساحل سے 3.2 کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے ، اس کا رقبہ 17 ایکڑ ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق منتقل کیے جانے والے افراد کو روزانہ جزیرے پر موجود سکیورٹی مرکز میں اپنی موجودگی کی اطلاع دینا ہو گی بصورت دیگر انہیں جیل میں ڈال دیا جائے گا۔

اس چار سالہ منصوبے پر 11.5 کروڑ ڈالر خرچ ہوں گے۔

دوسری جانب انسانی حقوق سے متعلق ڈینش انسٹی ٹیوٹ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر لوئز ہولک کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم صورت حال کا "قریب سے" جائزہ لے گی۔ اس لیے کہ بین الاقوامی منشوروں کے سلسلے میں ڈنمارک کی جانب سے پاسداری کی ممکنہ خلاف ورزیوں کا امکان ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ آیا لینڈہولم جزیرے پر مہاجرین کو رکھنا غیر قانونی حراست کے زمرے میں آئے گا۔ ماہرین کے مطابق ڈینش حکومت کا یہ منصوبہ اطالوی حکومت کے اُس منصوبے سے ملتا جلتا ہے جس کو انسانی حقوق کی یورپی عدالت نے 1980 میں کالعدم قرار دیا تھا۔

ڈنمارک میں پناہ کے طالب جن مہاجرین کی درخواست مسترد ہو جائے گی اور ان کو ملک بدر نہیں کیا جا سکے گا تو ایسے افراد کو مذکورہ جزیرے پر بھیج دیا جائے گا۔ یہاں رہنے والے ہر شخص کو یومیہ 1.20 ڈالر کا وظیفہ دیا جائے گا۔

ادھر ڈنمارک کی سابقہ وزیر برائے امیگریشن بیرتھ رون ہونبیش نے جزیرے کے منصوبے کو ایک "شگوفہ" قرار دیا ہے۔ انہوں نے ایک اخباری مضمون میں کہا کہ یہ اقدام ایسی فحش غلطی ہے جیسے کوئی فٹبال کا کھلاڑی اپنے ہی گول میں مخالف ٹیم کے لیے گول کر ڈالے۔

ڈنمارک کے وزیراعظم لارس لوک راسموسین گزشتہ ماہ یہ کہہ چکے ہیں کہ اب کے بعد سے پناہ گزینوں کے حوالے سے حکومت کا ہدف ان کو معاشرے میں ضم کرنا نہیں بلکہ ان کے اصل وطن واپسی تک ان کی میزبانی ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں