.

ایران قومی وسائل کس طرح اپنی فوج میں بانٹ رہا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے عسکری اھداف کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ اگر تہران کے موجودہ ایران اہداف ومقاصد معلوم کرنے ہوں تو ایران کے موجودہ سیاسی عقیدے کا مطالعہ کرنا کافی ہوگا۔ ایران کا سیاسی عقیدہ دوسرے ممالک میں ایرانی انقلاب کی ترویج کرنا ہے مگر سنہ 1979ء کے بعد ایران نے اس مذموم مقصد کے لیے "بے سہارا لوگوں کی مدد" کا نعرہ ایجاد کیا اور اس نعرے کی آڑ میں دوسرے ممالک میں مداخلت شروع کی۔

اسی ضمن میں ایران نے اپنے عسکری اہداف بھی واضح کیے۔ پاسدارن انقلاب اور دیگر ایرانی عسکری ملیشیائوں کی تزویراتی حکمت عملی، ان کے اثرو نفوذ اور عالمی اور علاقائی سطح پران کے وسیع پیمانے پر پھیلائو کے لیے ایران کے قومی وسائل کا بے دریغ استعمال کیا جانے لگا۔

اگرایران کی عسکری سرگرمیوں کو جاننا ہو تو ایرانی عسکری اداروں کے اخراجات کی جانکاری ضروری ہے۔ ایرانی عسکری ادارں کے بہت سے اخراجات غیراعلانیہ ہیں اور بجٹ کہاں کہاں خرچ کیا جاتا ہے اس کی تفصیلات کم ہی سامنے آتی ہیں۔ تاہم ایرانی پارلیمنٹ میں‌بھی عسکری اداروں، فوج اور نیم سرکاری ملیشیائوں کو فراہم کیے جانے والے مالی تعاون پر سوال اٹھائے جاتے ہیں۔

حال ہی میں ایک برطانوی تھینک ٹینک"انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار اسٹریٹیجک اسٹڈیز"IISS" نے ایک ریسرچ کی تفصیلات جاری کیں۔ ان تفصیلات میں ایرانی عسکری اداروں پر ہونے والے اخرجات اور بجٹ کی 2018 اور 2019ء کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران کس طرح قومی وسائل کو عوام کے ہاتھوں سے چھین کر فوجی اداروں میں بانٹ رہا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران کےعسکری اداروں کو سالانہ کی بنیاد پر جو بجٹ فراہم کیا جاتا ہے یا جس کا اعلان کیا جاتا وہ اس بجٹ کا عشر عشیربھی نہیں جو خفیہ طورپر قومی وسائل سے نہیں مہیا کیا جا رہا ہے۔ اگر ان خفیہ ذرائع سے عسکری اداروں کو فراہم کیے جانے والے وسائل کو شامل کیا جائے تو بجٹ کا حجم غیرمعمولی حد تک بڑھ سکتا ہے۔

پاسداران انقلاب اور پرائیویٹ کمپنیاں

ایرانی پاسداران انقلاب ایک عسکری ادارہ ہونے کے ساتھ ساتھ کئی پرائیویٹ کمپنیوں کی بھی سرپرستی اور نگرانی کرتا ہے۔ یہ پرائیویٹ ادارے پاسداران انقلاب کے مالی وسائل کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔ یوں پاسداران ان کمپنیوں کے ذریعے اپنا سیاسی اثرو نفوذ بھی استعمال کرتا ہے۔ بنیادی ڈھانچے کے لیے ٹھیکوں کے حصول ، ٹینڈر حاصل کرنے، تعمیراتی منصوبوں، توانائی، سڑکوں کی تعمیر خوراک کے مواد اور ٹرانسپورٹ جیسے شعبوں میں بھی ایرانی عسکری ادارہ بڑھ چڑھ کر سرمایہ کاری کرتا ہے۔

ایران کے مکمل عسکری میزانیے کے بارے میں جاننے کے لیے صرف سرکاری فوج، پاسداران انقلاب اور باسیج فورس کا اعلانیہ بجٹ معلوم کرنا کافی نہیں بلکہ پولیس فورس، ایلیٹ فورسز، مسلح افواج کے لیے فلاحی خدمات انجام دینے والے اداروں، سیاسی اور نظریاتی تربیتی مراکزاور مخصوص فرقے کی تعلیم اور ترویج پر صرف کی جانے والی بھاری رقوم بھی اس میں شامل ہیں۔

جہاں تک بجٹ کے استعمال میں شفافیت کا سوال ہے تو ان عسکری اداروں کے بجٹ کی شفافیت اسی صورت میں معلوم کی جاسکتی ہے اگر ان سے باز پرس کی جائے، مگرایران میں ان اداروں سے باز پرس کرنے والا ان سے بالادست ادارہ کوئی نہیں۔

برطانوی تھینک ٹینک کی جانب سے ایرانی فوجی بجٹ کے بارے میں کی جانے والی تحقیق کے بعد اس کے پانچ درج ذیل نتائج اخذ کیے ہیں۔

1۔۔ ایران کےعسکری اداروں اور ان کے متعلقہ شعبوں کے لیے مختص کردہ وسائل پارلیمنٹ کے اندر اور باہر شدت پسند اور پریشر گروپوں کے مطالبات سے کہیں زیادہ ہے۔ پاسداران انقلاب کے زیرانتظام ابلاغی اداروں، آرمی چیف جنر محمد باقری، قومی سلامتی کمیٹی کے سابق چیئرمین علائوالدین بروجردی، پارلیمنٹ کی خارجہ وسیکیورٹی کمیٹی کے چیئرمین، بنیاد پرستوں اور ایرانی رجیم کے پرتشدد گرپوں کی طرف سے مل کے 5 فی صد وسائل فوجی اداروں کے لیے وقف کرنے کا مطالبہ کیا۔ سنہ 2016ء میں ایرانی پارلیمنٹ نے یہ مطالبہ تسلیم کرلیا جس کے تحت ایران کے دفاعی بجٹ کا حجم 19 ارب 60 کروڑ ڈالر سے تجاوز کرگیا۔

خیال رہے کہ ایرانی حکومت نے ایرانی حکومت کا اپنا بجٹ مالی سال 2018‌ اور 2019ء دو ارب 60 کروڑ ڈالر سے زیادہ نہیں۔ اس میں سے بھی 7 اعشاریہ پانچ فی صد رقم عسکری شعبے پر خرچ کرنے کا اعلان کیا گیا۔

2۔۔ رواں سال اپریک سے اکتوبر تک ایرانی ریال کی ڈالر کے مقابلے میں کم ہوا تو اس کے نتیجے میں ایرانی دفاعی بجٹ بھی کم ہوگیا۔ مگر ایرانی حکومت نے چھ ماہ کے دوران فوجی بجٹ کا حجم انیس اعشاریہ چھ ارب ڈالر سے بڑھا کر 21 اعشاریہ 6 ارب ڈالر کردیا۔ یہ ڈرامائی تبدیلی ایرانی ریال کی قیمت میں کمی کی وجہ سے کی گئی۔

گذشتہ پانچ سال کی نسبت 2018ء میں ایران کے عسکری بجٹ میں 53 فی صد اضافہ دیکھا گیا۔

3۔۔ ایران کے عسکری بجٹ برائے 2018ء 2019ء میں "خاتم الانبیاء مرکزی" ہیڈ کواٹر کے لیے بھی بجٹ مختص کیا گیا۔ یہ اس ہیڈ کواٹر کی بڑھتی ہی اہمیت کا اظہار ہے۔ خاص طور پر جب سے جنرل غلام علی رشید کو ہیڈ کواٹر کا سربراہ مقرر کیا گیا۔

خیال رہے کہ "خاتم الانبیاء بریگیڈ" کا قیام عراق اور ایران جنگ کے دور میں قائم کیا گیا تھا۔ یہ ادارہ پلاننگ، کوآرڈی نیشن، مسلح آپریشنز اور پاسداران انقلاب کے تمام اقدامات کی نگرانی کرتا ہے۔ اس مرکز کے قیام کے بعد مسلح افواج کا آپریشنل فیصلوں سے متعلق کردار محدود ہوگیا۔

4۔۔ سنہ 2018ء اور 2019ء کے ایرانی فوجی میزانیے میں پولیس کے اداروں کے لیے بجٹ میں 84 فی صد اضافہ کیا گیا۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایرانی فوج او پولیس کے اداروں کے بجٹ میں غیرمعمولی اضافہ تہران حکومت کی ترجیح ہے۔نیز پولیس کو بھی فوج کے اداروں کے برابر درجہ دیاجاتا ہے۔

فوج کے بجٹ کی نسبت پولیس کا میزانیہ 16 فی صد ہے مگر حالیہ عرصے کے دوران فوج کے بجٹ میں ایرانی فوج کے بجٹ میں اضافہ دیکھا گیا۔ فوجی بجٹ میں 12 اعشاریہ ایک فیصد اضافہ کیاگیا۔

5۔۔ سنہ 2017ء کوایرانی پارلیمنٹ میں فوجی بجٹ کا جو بل پیش کیا گیا۔ اس میں القدس فیلق القدس کے لیے 10 کھرب ریال یعنی 20 کروڑ 13 لاکھ ڈالرہے۔ اتناہی بجٹ ایران کے میزائل پروگرام کے مختص کیا گیا۔ مگر سنہ 2018ء کے بجٹ میں فیلق القدس اور ایران کے میزائل پروگرام کے بارے میں بجٹ ظاہر نہیں کیا گیا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران کا فوجی بجٹ غیراعلانیہ ہے۔ ایران کے عسکری اخراجات دوسرے ذرائع سے پورے کیے جاتے ہیں۔ جب ایران نے سرکاری سطح پر میزائل پروگرام اور فیلق القدس کےمیزانیے کا اعلان نہیں کیا تو یہ امراس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ایران دوسرے ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدن کو خفیہ طورپر ان شعبوں پر صرف کررہا ہے۔