.

مصر2020ء میں پلاسٹک کے کرنسی نوٹ کیوں متعارف کرا رہا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پلاسٹک کے کرنسی نوٹ تیار کرنے والے ممالک کی فہرست میں مصربھی شامل ہونے جا رہا ہے۔ مصری حکومت کا کہنا ہے کہ سنہ 2020ء تک پلاسٹک کے کرنسی نوٹ چھاپنے کا سلسلہ شروع کردیا جائے گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مصر کے مرکزی بنک کے گورنر طارق نے بتایا کہ پولیمر مادے سے تیار کردہ پلاسٹک کے کرنسی نوٹ 2020ء تک مارکیٹ میں آجائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پلاسٹک کے مصری پائونڈ کی طباعت کی لاگت میں کاغذ کے نوٹ کی نسبت کم اخراجات ہوں گے۔ اس کے علاوہ پلاسٹک کے کرنسی نوٹوں کی جعل سازی نہیں کی جاسکے گی۔

ایک سوال کے جواب میں مصری مرکزی بنک کے گورنر کا کہنا تھا کہ پلاسٹک کے کرنسی نوٹوں کی کئی خصوصیات ہیں۔ ایسے کرنسی نوٹ ماحول دوست، مضبوط، واٹر پروف، کاغذ کی نسبت زیادہ عرصے تک خراب نہ ہونے والے اور کم سے کم آلودگی پھیلاتے ہیں۔ اس وقت چین، برطانیہ، چین، آسٹریلیا، سینگاپور، انڈونیشیا، رومانیا اور ویت نام جیسے ممالک پلاسٹک کے کرنسی نوٹ تیار کررہے ہیں۔

انہوں‌نے کہا کہ اتبداء میں 10 پائونڈ مالیت کے پلاسٹک کے کرنسی نوٹ چھاپے جائیں گے۔ اس کے بعد بہ تدریج دیگر تمام مالیت کے کرنسی نوٹوں کو پلاسٹک کے نوٹوں میں تبدیل کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ مصرمیں کرنسی نوٹ پہلی بار 1836ء میں رائج ہوئے۔ کرنسی کے سونے اور چاندے کے سکے زیادہ استعمال کئے جاتے تھے۔

مصر میں پائونڈ کرنسی کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے یہ برطانوی استبداد کی ایک علامت ہے۔ برطانیہ نے مصر پرقبضے کے دوران مصری پائونڈ متعارف کرائے۔