عراق کے مقبول ترین عوامی شاعر عریان خلف کی زندگی کا سفر تمام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

عراق میں ادبی حلقوں نے معروف عوامی شاعر عریان السید خلف کی وفات پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ عریان کو بدھ کی صبح دل کا دورہ پڑا تھا جس کے بعد وہ بغداد میں مدینۃ الطب ہسپتال جاتے ہوئے راستے میں ہی انتقال کر گئے۔

عریان کے جنازے میں ثقافت، سیاست اور فن کے حلقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مرحوم شاعر کئی دہائیوں سے عراق میں کمیونسٹ پارٹی سے وابستہ تھے۔

عریان السید خلف نے 1940ء میں عراق کے صوبے ذی قار میں آنکھ کھولی۔ کم عمری میں ہی شاعری کے حوالے سے ان کی خداداد صلاحیتیں اجا گر ہوئیں اور 1960ء کی دہائی کے اواخر میں عریان کی شاعری عوام کے سامنے آنا شروع ہو گئی۔

عریان نے عراقی ٹیلی وژن کے علاوہ صحافت اور ریڈیو میں بھی کام کیا۔ وہ متعدد پیشہ وارانہ انجمنوں کے رکن رہے اور انہوں نے اپنی زندگی میں کئی ادبی ایوارڈز بھی حاصل کیے۔

عوامی شاعری کی دنیا میں عریان کو مقبولیت کا "پہاڑ" قرار دیا جاتا تھا۔ ان کی شاعری ادب اور کردار سازی کا اعلی امتزاج تھا۔ یہاں تک کہ ان کی آخری رسومات کے موقع پر یہ بازگشت بھی سامنے آئی کہ آج ابن خلدون رخصت ہو گیا۔

عریان کی شاعری محض طبقاتی تنازع، مزدوروں کے حقوق اور معاشرتی انصاف کی تصویر پیش نہیں کرتی بلکہ یہ درد میں ڈوبی ایک شاعر کے اندر کی آواز ہے۔ اسی وجہ سے عریان کو پڑھنے والا خود کو ایک سیاسی نظریاتی شخصیت کے ساتھ نہیں بلکہ سادہ پیرائے میں گہرے مفہوم کے حامل شاعر کے ساتھ محسوس کرتا ہے۔

عریان خلف کو زندگی میں انتہائی کٹھن دن بھی گزارنے پڑے۔ سکیورٹی حکام کی کڑی نگرانی سے بچنے کے لیے ایک مرتبہ انہوں نے سال بھر کے اندر 28 مکانات تبدیل کیے۔ بعض مرتبہ یہ عوامی شاعر اپنے بیوی بچوں کے ساتھ ایک چھوٹے ٹرک میں سونے پر بھی مجبور ہو گیا۔

عریان کو سادہ طبیعت اور مسکین لوگوں کے شاعر کا خطاب دیا گیا۔ بہت سے عراقی گلو کاروں نے ان کے کلام کو اپنے گیتوں کی زینت بنایا۔ ان میں قحطان العطار، سعدون الجابر، صباح السہل، حميد منصور، فؤاد سالم اور كريم منصور شامل ہیں۔

عریان کو جنون کی حد تک شکار کا شوق تھا۔ اس شوق کے اثرات ان کی شاعری پر بھی نظر آتے ہیں۔

عراق کے اس عوامی شاعر کے ذاتی نام "عریان" (عربی میں عریان کا معنی : برہنہ یا بے لباس) کے پیچھے بھی ایک درد بھری کہانی ہے۔ عریان سے پہلے ان کے دو بھائی پیدا ہوئے تھے جو بالترتیب چھ ماہ اور ڈیڑھ برس کی عمر میں فوت ہو گئے۔ لہذا جب عریان کی پیدائش ہوئی تو والدہ ان کے زندہ رہنے کے حوالے سے مایوسی کا شکار تھیں۔ لہذا عریان کی والدہ نے ان کو ایک کپڑے کے ٹکڑے میں لپیٹ کر بنا لباس کے برہنہ ڈال دیا۔


عریان بتاتے تھے کہ ان کی عمر ایک برس ہو گئی اور ان کا کوئی نام نہیں رکھا گیا۔ اس پورے عرصے میں وہ بے لباس ہی رہے۔ بعد ازاں ان کے والدین نے بیٹے کا نام "عريان" ہی رکھ دیا۔


مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں