.

قطر بحران کے باوجود خلیج تعاون کونسل فعال ہے: قرقاش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ ڈاکٹر انور قرقاش کا کہنا ہے کہ قطر بحران کے باوجود سعودی دارلحکومت میں خلیج تعاون کونسل ’’جی سی سی‘‘ کا سربراہی اجلاس اور سلطنت آف اومان کی پیش آئند قیادت تنظیم کے فعال ہونے کی واضح نشانی ہے۔

ڈاکٹر قرقاش نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ ’’تنظیم کی بنیادی کونسل اقتصادیات کے میدان میں کامیابی اور تنظیم کے رکن ملکوں پر مشتتمل مشترکہ منڈی کا خواب اسی صورت مکمل کر سکتی ہے اگر قطر انتہا پسندی کی حمایت ترک کر دے اور خطے کے استحکام کو گزند پہنچانے والے امور میں مداخلت بند کر دے۔‘‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’’موجودہ سیاسی حقیقت پسندی کے باعث خلیج تعاون کونسل کو اپنا جاری رکھنے میں مدد ملی۔ بحران کے دوران بھی کونسل کی انتظامی، فنون اور ٹکنالوجی سے متعلق کمیٹیوں کے اجلاس باقاعدگی سے جاری رہے ہیں، تاہم قطر کی جانب سے اجتماعی مفاد کے علی الرغم فیصلوں سے اسٹرٹیجک اور سیاسی محاذ کسی حد تک ضرور متاثر ہوا۔ اس صورتحال میں الریاض، ابوظہبی اور منامہ کا ذمہ دارانہ کردار تاریخ کا حصہ ہے۔‘‘

یاد رہے کہ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی دعوت پر جی سی سی تنظیم کا الریاض میں 9 دسمبر بروز اتوار ہونے والے اجلاس میں متعدد امور زیر بحث آئیں گے جن میں رکن ملکوں کے درمیان اسٹرٹیجک فوجی تعاون سرفہرست ہو گا۔

قطر کو سربراہی اجلاس میں شرکت کی دعوت؟

ادھر قطر کے سرکاری خبر رساں ادارے نے دعوی کیا ہے کہ شیخ تمیم کو سعودی شاہ کی طرف سے 9 دسمبر کو ریاض میں ہونے والے سربراہی اجلاس کا تحریری دعوت نامہ موصول ہوا ہے۔

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی کو خلیجی ملکوں کی سربراہی کانفرنس میں مدعو کیا ہے۔

قطر کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق شیخ تمیم کو سعودی شاہ کی طرف سے 9 دسمبر کو ریاض میں ہونے والے سربراہی اجلاس کا تحریری دعوت نامہ موصول ہوا ہے۔

قطر کی حکومت نے تاحال یہ نہیں بتایا کہ آیا شیخ تمیم نے دعوت نامہ قبول کرلیا ہے یا نہیں اور سربراہی اجلاس میں اس کا کس سطح کا وفد شریک ہوگا۔

سعودی عرب اور قطر کے تعلقات جون 2017ء سے کشیدہ ہیں جب سعودی حکومت اور اس کے اتحادی عرب ملکوں نے دوحا پر دہشت گردوں کی مدد کا الزام عائد کرتے ہوئے اس کے ساتھ سفارتی، تجارتی اور مواصلاتی رابطے منقطع کرلیے تھے۔

سعودی عرب کے اس اقدام کو چھ خلیجی ملکوں کی نمائندہ تنظیم 'جی سی سی' کے دو دیگر ارکان متحدہ عرب امارات اور بحرین کی بھی حمایت حاصل تھی جب کہ مصر نے بھی سعودی حکومت کے موقف کی حمایت میں قطر سے اپنے تعلقات توڑ لیے تھے۔

گذشتہ سال کویت میں ہونے والے 'جی سی سی' کے سربراہ اجلاس میں قطر کے امیر کی شرکت کے ردِعمل میں سعودی عرب، بحرین اور عرب امارات کے سربراہان شریک نہیں ہوئے تھے بلکہ انہوں نے اجلاس میں اپنی نمائندگی کے لیے وزارتی سطح کے وفود بھیجے تھے۔

قطر اور اس کے خلیجی پڑوسیوں کے درمیان مصالحت کی کویت اور امریکہ کی کوششیں بھی تاحال بار آور ثابت نہیں ہوئی ہیں۔ قطر کو سعودی شاہ کا دعوت نامہ ایسے وقت موصول ہوا ہے جب ایک روز قبل ہی قطر نے اچانک عالمی منڈی میں تیل بیچنے والے ملکوں کی نمائندہ تنظیم 'اوپیک' کی رکنیت چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔