لیبیا کے بحران کے حل کے لیے پوتین کے نام سیف الاسلام کے خط کی تفصیلات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لیبیا کے سابق سربراہ معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام کے سیاسی وفد کے ایک رکن محمد القيلوشی نے اُس خط کی تفصیلات پر روشنی ڈالی ہے جو انہوں نے سیف الاسلام کی جانب سے روسی عہدے داران کے حوالے کیا۔ بعد ازاں یہ خط روسی صدر ولادی میر پوتین تک پہنچا دیا گیا۔ القیلوشی کے مطابق خط میں ماسکو سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ لیبیا میں سیاسی بحران کے حل کے واسطے روڈ میپ کو کامیاب بنانے کے لیے اس کی حمایت کرے۔

القیلوشی نے اخباری بیان میں بتایا کہ سیف الاسلام قذافی نے لیبیا میں حل کے سلسلے میں اپنا نقطہ نظر پیش کیا ہے جو دو بنیادی نکات پر مشتمل ہے۔ ان میں پہلی چیز جامع قومی مصالحت کے واسطے نیشنل جنرل فورم کو کامیاب بنانے کے لیے تمام فریقوں کی شرکت اور دوسری چیز شفاف انتخابات کا اجراء ہے۔ القیلوشی نے باور کرایا کہ سیف الاسلام اُس روڈ میپ کی حمایت کرتے ہیں جو لیبیا کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی غسان سلامہ نے پیش کیا ہے۔

محمد القیلوشی کا کہنا تھا کہ انہوں نے منگل کے روز روسی عہدے داران کے ساتھ متعدد ملاقاتیں کیں۔ ان عہدے داران میں روس کے نائب وزیر خارجہ اور مشرق وسطی اور افریقا کے امور کے لیے روسی صدر کے مشیر میخائل بوگدانوف شامل ہیں۔ القیلوشی کے مطابق اس دوران سیف الاسلام کا منصوبہ زیر بحث آیا جس کا روسی جانب سے خیر مقدم کیا گیا۔

اس سے قبل محمد القیلوشی نے ماسکو کے دورے کے دوران ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ سیف الاسلام قذافی کے سیاسی ورکنگ گروپ کے ایک وفد کے سربراہ کے طور پر روس آئے ہیں۔ اس دورے کا انتظام روس کی جانب سے کیا گیا۔ اس دوران القیلوشی نے روسی حکومت کو معمر قذافی کے بیٹے کا خط بھی حوالے کیا جس میں لیبیا کے بحران کو حل کرنے کے لیے سیف الاسلام کا نقطہ نظر شامل تھا۔

یاد رہے کہ جون 2017 میں لیبیا کے شہر الزنتان کی جیل سے رہا ہونے کے بعد سیف الاسلام قذافی اعلانیہ طور پر منظر عام پر نہیں آئے۔ وہ 2011 میں اپنے والد معمر قذافی کی حکومت کے سقوط کے بعد سے گرفتار تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں