موسیقی کے 'شور وغل' سے بچنے کے لیے مصری معلمہ نے کیا کیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصرمیں جہاں ایک طرف آئے روز محافل موسیقی اور عوامی موسیقی میلے منعقد کرکے طرح طرح موسیقی پروگرام پیش کیےجاتے ہیں وہیں بعض اوقات لوگ ان بے ہنگم موسیقی میلوں ٹھیلوں اور ان میں ہونے والے شور شرابے اور 'سماعتی آلودگی' بھی عام ہوجاتی ہے۔ مصر کی ایک معلمہ جو اسکول میں‌بچوں کو موسیقی ہی کی تعلیم دیتی ہیں نے اپنے طلباء کو موسیقی کے اس شور وغل سے بچنے کے لیےآواز کے بجائے حرکات اور اشاروں میں موسیقی سے لطف اندوز ہونے کا فن سکھانے کے لیے کوشاں ہیں۔

مصرمیں حرکات اور اشاروں سے موسیقی کے فن کی تعلیم، تدریس اور ترویج کا قصہ اگرچہ نیا ہوگا مگر عرب خطے میں یہ نئی بات نہیں۔ اس سے پیشتر فلسطین میں موسیقی کی ایک معلمہ سوار خلایلہ بھی اپنے طلباء کو حرکات کی مدد سے موسیقی سکھانے پر سوشل میڈیا پر غیرمعمولی مقبولیت حاصل کرچکی ہیں۔اب وہی طریقہ مصر کی ماریز موریس نے اختیار کیا ہے۔ وہ مصر کے ڈلٹا کے علاقے کی طنطا گورنری میں ایک نجی اسکول میں موسیقی کی استانی ہیں۔

ماریز موریس کی ایسی کئی فوٹیج اور ویڈیوز انٹرنیٹ پر موجود ہیں جن میں انہیں طلباء کو موسیقی کے فنون سکھاتے دیکھا جاسکتا ہے مگر حرکات کی مدد سے موسیقی کے مختلف پیرایوں کے اظہار کی ویڈیو کو بڑے پیمانے پر پسند کیا گیا۔ اسے نہ صرف مصری نوجوانوں میں بے حد پذیرائی ملی بلکہ ملک سے باہر بھی اس کو بہت پسند کیا گیا۔

مسز موریس کی کلاس میں اگرچہ چھوٹے چھوٹے بچے اور بچیاں ہیں مگر انہوں‌نے جس مہارت کے ساتھ فن حرکت کے تحت موسیقی کے مختلف انداز سیکھے ہیں اس پر وہ داد کے مستحق ہیں۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے بات کرتے ہوئےماریز موریس نے کہا کہ میں بچپن ہی سے موسیقی کی دلدادہ تھیں۔ اپنی تعلیم کے دوران بھی میں نے اسے کو اپنا مشن بنایا اور اب تعلیم سے فراغت کے بعد بھی موسیقی ہی میرا اوڑھنا بچھونا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اچھی اور خوبصورت موسیقی حقیقی معنوں میں روح کی غذا ہے اور اس کے نتیجے میں انسانی جذبات اور احساسات ترقی کرتے ہیں۔ موسیقی انسان کے اندر کی خوبصورت کے اظہار کا ذریعہ اور شخصیت کے نکھا اور ترقی کا سبب بھی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں‌ماریز موریس نے کہا کہ وہ بچوں کو مصری اور عرب دنیا کے مہان موسیقاروں ام کلثوم، محمد فوزی، عبدالحلیم، فائزہ، فیروزہ اور وردہ کے انداز سکھاتی اور بچوں میں اچھی موسیقی کا شوق پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں بچوں کو موسیقی سکھانے میں مصروف رہی مگرمیرے لیے یہ بات حیران کن تھی کہ جب میں‌نے سوشل میڈیا پر اپنی کلاس کی ویڈیو دیکھی۔ اسے بہت زیادہ لوگوں نے پسند کیا۔اس سے مجھے نیا حوصلہ اور ولولہ ملا ہے۔ بچوں کے والدین نے بھی اسے بہت زیادہ سراہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں