بدامنی کا شکار ایران کی "چابہار" بندرگاہ کی کیا اہمیت ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جمعرات کو ایران کی چابہار بندرگاہ میں پولیس ہیڈ کواٹر کے سامنے "انصار الفرقان" نای عسکری گروپ نے کار خود کش حملہ کیا جس کے نتیجے میں بندرگاہ کو غیرمعمولی نقصان پہنچا ہے۔ یہ بندرگاہ ایران کے لیے کتنی اہمیت کی حامل ہے؟۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ نے اس رپورٹ میں اسی سوال کا جواب تلاش کیا ہے۔

جغرافیائی اعتبار سے 'چابہار' بندرگاہ ایران کے بلوچ اکثریتی صوبہ سیستان بلوچستان کے جنوب میں واقع ہے۔ ایران اس بندرگاہ پر مسلسل سرمایہ کاری کررہا ہے جس کی وجہ سے عالمی سطح پر اس بندرگاہ کی توجہ مسلسل بڑھ ہی ہے۔ اس بندرگاہ کی تعمیر وترقی میں‌ بھارت کا ایران کو بھرپور تعاون حاصل ہے۔ ایران اس بندرگاہ کے ذریعے نہ صرف بھارت بلکہ وسطی ایشیائی ریاستوں، قازقستان، تاجکستان، ازبکستان، افغانستان اور ترکمانستان کو بھی اپنے قریب لانا اور بحر اومان اور بحر عرب کے ساتھ منسلک رکھنے کے لیے کوشاں ہے۔

چابہار میں پولیس کے ہیڈ کواٹر کے سامنے کار خود کش حملہ اس بندرگاہ پر حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ جنوبی تہران میں واقع اس بندرگاہ پر گذشتہ روز ہونے والے حملے میں کم سے کم چار افراد ہلاک ہوگئے۔

ادھر چابہار شہر کے گورنر رحمد بامری نے سرکاری ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں نے سیکیورٹی ہیڈ کواٹر کو بارود سے بھری کار سے اڑانے کی کوشش کی جسے ناکام بنا دیا گیا اور ہیڈ کواٹر سے کچھ فاصلے پر کار دھماکے سے اڑا دی گئی۔

گورنر نے کہا کہ بم حملے میں کم سے کم 4 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوئے ہیں۔

اس کارروائی کی ذمہ داری"انصارالفرقان" نامی ایک عسکریت پسند گروپ نے قبول کی ہے۔ یہ گروپ "جیش العدل" سے مںحرف ہونے والے گروپ حرکت انصار ایران اور حزب الفرقان کا حصہ ہے۔ اس سے قبل بھی یہ گروپ وسطی اور شمالی ایران میں عسکری کارروائیاں کرتا رہا ہے۔

اس تنظیم کا دعویٰ ہے کہ وہ بلوچستان کے اہل سنت مسلک کے پیروکار مسلمانوں کے حقوق کے لیے لڑتی ہے۔

پچیس مئی 2017ء کو "انصار الفرقان" کے ترجمان ابو حفص نے پاسداران انقلاب کے زیرانتظام ایک مال بردار ریل گاڑی پرحملہ کرکے اسے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

کئی روز تک جاری رہنے والی کارروائیوں کے بعد 10 اکتوبر 2017ء کو پاسداران انقلاب نے "انصارالفرقان" کو مکمل طورپر ختم کرنے کا دعویٰ تاہم اس وقت بھی اس تنظیم نے پاسداران انقلاب کی کارروائیوں کا بدلہ لینے کا اعلان کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں