.

حوثی ملیشیا سویڈن میں مذاکرات اور الحدیدہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزی میں مصروف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حوثی ملیشیا کی جانب سے سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں شروع ہونے والی یمن کی امن بات چیت میں رکاوٹیں ڈالنے اور اعتماد کے قیام کے لیے ہونے والے اقدامات کو غیر مؤثر بنانے کی کوششوں کا سلسلہ جاری ہے۔ دوسری جانب حوثی باغیوں کی جانب سے الحدیدہ میں اعلان کردہ جنگ بندی کی خلاف ورزی سامنے آئی ہے۔ اس دوران باغیوں نے شہر میں سٹی میکس تجارتی مرکز کو مارٹر گولوں اور توپوں کے ذریعے نشانہ بنایا۔ مقامی ذرائع کے مطابق اس کے نتیجے میں مذکورہ تجارتی مرکز مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گیا۔

حوثی باغیوں کی طرف سے پر تشدد کارروائیوں کا سلسلہ وسیع ہو کر التحیتا ضلع میں شہریوں کے گھروں پر اندھادھند گولہ باری تک پہنچ گیا۔ اس کارروائی میں یہ گھر تباہ ہو گئے اور ان کا سامان اور اشیاء لوٹ لی گئیں۔

ایسا نظر آتا ہے کہ حوثی باغی صورت حال کو ابتر بنانے پر تُلے ہوئے ہیں تا کہ یمن میں آئینی حکومت اور عرب اتحاد کو بین الاقوامی گروپ کے سامنے شرمندگی سے دوچار کر سکیں۔

ادھر عالمی خوراک پروگرام کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈیوڈ بیزلے نے حوثیوں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ یمن میں جنگ سے تباہ حال مختلف علاقوں میں شہریوں تک غذائی امداد پہنچنے میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔ بیزلے نے واضح کیا کہ بین غذائی امداد کی بین الاقوامی ایجنسی کو حوثیوں کی جانب سے ایجنسی کے سامان اور مشینوں کو بلاک کر دینے کا سامنا ہے اور یمن کی صورت حال انتہائی مایوس کن ہو گئی ہے۔