دمشق کے ہرنوجوان کی تاحیات اسدی فوج میں شمولیت کی لازمی کیوں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں نے اسد رجیم کے ایک نئے طریقہ واردات کا انکشاف کیا ہے اور بتایا ہے کہ دارالحکومت دمشق اور اس کے مضافاتی علاقوں میں بسنے والے مردوں کی اسدی فوج میں تا حیات بھرتی لازمی قرار دی گئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق انسانی حقوق کے کارکنان کے مطابق فوج میں بھرتی نہ ہونے والے نوجوان گھروں میں بند رہنے پر مجبور ہیں۔ شامی فوج نے سڑکوں پر چلنے والے بڑی تعداد میں نوجوانوں اور مردوں کو حراست میں لینے کے بعد انہیں زبردستی فوج میں بھرتی کرنا شروع کررکھا ہے۔

ایک مقامی صحافی نے سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر اپنی شناخت ظاہرنہ کرنے کی شرط پر"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ دمشق کے قلب میں 20 سے 40سال کے درمیان کی عمر کے افراد کے گھومنے پھرنے کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ کھلے عام صرف وہی گھوم سکتا ہے جو فوج میں‌بھرتی ہوگیا ہو اور اگرکوئی شخص فوج میں بھرتی نہیں ہوا تو سے کسی بھی وقت اسدی فوج اٹھا کر لے جائے گی۔ اگر وہ زندہ رہنا چاہتا ہے تو اس کے پاس اسدی فوج میں بھرتی ہونے کے سوا اور کوئی چارہ باقی نہیں رہتا۔

صحافی نے بتایا کہ اس کے کئی قریبی رشتہ داروں کوان کی مرضی کے خلاف حراست میں لینے کےبعد فوج میں بھرتی کردیاگیا۔ کئی افراد کو گھر سے کام کاج اور محنت مزدوری کے لیے جاتے ہوئے چوکیوں سے گرفتار کیا گیا۔ اس کے بعد انہیں فوج میں شامل کردیا گیا۔ یہی حالات دمشق کے اطراف کے ہیں۔ شامی فوج نے الدریج کے مقام پر چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران کئی افراد کو حراست میں لیا، بعد ازاں انہیں فوج میں بھرتی ہونے کی شرط پر چھوڑا گیا۔

ایک سوال کے جواب میں مقامی صحافی کا کہنا تھا کہ سول اداروں کے ملازمین اور سابق فوجیوں کو بھی دوبارہ فوج میں بھرتی کیا جاتا ہے تاکہ وہ تا حیات فوج میں شامل رہیں۔

شامی فوج کے اس طریقہ واردات کی وجہ سے دمشق اور اس کے مضافات میں رہنے والے نوجوان سخت تشویش میں۔ نوجوان اس خوف سے گھروں سے نکلنے سے گریز کرتے ہیں کہ کہیں فوج میں‌بھرتی کے لیے دھرنہ لیے جائیں۔ دمشق میں چپے چپے پر شامی فوج کی چیک پوسٹیں قائم ہیں اور نوجوانوں کے لیے ان چیک پوسٹوں کےپاس سے گذرتے ہوئے پکڑ لیا جاتا ہے اور اس کے بعد ان کا انجام یا تو فوج میں بھرتی یا جیل ہوتی ہے۔ یہ طرز عمل نہ صرف اپوزیشن کے حامیوں کے ساتھ برتا جاتا ہے بلکہ اسد رجیم کے حامیوں کو بھی ایسے حربوں کا سامنا ہے۔

دمشق میں مقیم ایک دوسرے صحافی نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ ایسے افراد جن کا ملک کی موجودہ صورت حال کے بارے میں کوئی سیاسی موقف نہیں ہوتا اور وہ اس سارے تنازع میں غیر جانب دار ہوتےہیں انہیں بھی اسدی فوج میں‌بھرتی کرلیا جاتا ہے۔ اسد رجیم کسی پر بھی رحم نہیں کرتی۔

انہوں‌نے کہا کہ اگر اسدی فوج کا بس چلے تو وہ قبروں سے مُردوں کو بھی نکال کرانہیں فوج میں‌بھرتی کرے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرنے والا صحافی خود بھی کسی بھی وقت دھرلیے جانے سے خائف ہے۔ اس نے بتایا کہ اسدی فوج میں‌بھرتی کے امور کےڈائریکٹرکی طرف سے لوگوں کے گھروں میں‌مکتوب ارسا کیے جاتے ہیں جن میں ان سے کہاجاتا ہے کہ وہ اپنے نوجوان افراد کو فوج میں بھرتی کے لیے پیش کریں۔

ایک سوال کے جواب میں صحافی نے بتایا کہ اسدی فوج میں‌بھرتی ہونے سے بچنے کے لیے رشوت کام آسکتی ہے۔ بھرتی کرنے والے ایجنٹ بھاری رقم لے کر بعض لوگوں کو چھوڑ دیتے ہیں۔ اگر کسی نوجوان کی تعلیم ابھی مکمل نہیں ہوئی تو اسے بھی فوج میں بھرتی کرلیا جاتا ہے۔

اسدی فوج کی جانب سے دمشق اور دوسرے علاقوں میں نقل مکانی کرنے والے شہریوں کے کیمپوں پر آئے روز چھاپے مارے جاتے ہیں۔ مشرق الغوطہ کےپناہ گزینوں کے لیے قائم کردہ "الحرجلہ" کیمپ پر کئی بار چھاپہ مارا گیا اور وہاں سے نوجوانوں کو پکڑنے کے بعد فوج میں‌بھرتی کیا گیا۔

سماجی کارکن غیاث ابو احمد نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شامی فوج نے الحرجلہ پناہ گزین کیمپ پر چھاپہ مارا اور وہاں پر موجود تمام جونوانوں کو پکڑ کراپنے ساتھ لے گئی اور انہیں زبردستی فوج میں بھرتی کردیا گیا۔

انہوں‌نے کہا کہ بہت سے نوجوان ایسے ہیں جو فوج میں بھرتی نہیں ہونا چاہتے مگرشامی فوج انہیں گرفتار کرکے ان کی مرضی کے خلاف فوج میں ٹھونس دیتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں