.

روحانی نے مغرب کو منشیات اور پناہ گزینوں کے "طوفان" سے خبردار کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے صدر حسن روحانی کا کہنا ہے کہ اُن کے ملک پر امریکی پابندیاں "اقتصادی دہشت گردی" کے مترادف ہیں۔ انہوں نے یہ بات ہفتے کے روز دہشت گردی اور علاقائی تعاون کے بارے میں تہران میں منعقد ایک کانفرنس کے دوران کہی۔ کانفرنس میں افغانستان، چین، پاکستان، روس اور ترکی کے پارلیمنٹ کے اسپیکر اور دیگر عہدے داران بھی شرکت کر رہے ہیں۔

روحانی کے مطابق "ایران کے خلاف امریکی پابندیاں غیر منصفانہ اور غیر قانونی ہیں۔ ان کے ذریعے ہمارے ملک کو نشانہ بنانا دہشت گردی کی واضح مثال ہے"۔

روحانی نے توقع ظاہر کی کہ اگر امریکی پابندیوں نے منشیات، پناہ گزینوں اور دہشت گرد حملوں کا مقابلہ کرنے کے سلسلے میں ایران کی قدرت کو متاثر کیا تو مغربی دنیا میں مذکورہ مسائل کا "طوفان" آ جائے گا۔

ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ "ہمیں اس وقت ایک بھرپور حملے کا سامنا ہے جو نہ صرف ہماری خود مختاری اور تشخص کے لیے خطرہ ہے بلکہ ہمارے تاریخی تعلقات کو بھی کاری ضرب کا نشانہ بنا رہا ہے"۔

رواں سال مئی میں ایرانی جوہری معاہدے سے علاحدہ ہونے کے بعد واشنگٹن نے ایک بار پھر سے تہران پر تیل برآمد کرنے اور دیگر پابندیاں عائد کر دیں۔ ایران اور چھ بڑی طاقتوں کے درمیان مذکورہ جوہری معاہدہ جولائی 2015 میں طے ہوا تھا۔