.

شام کے شہر البوکمال میں ایرانی ملیشیائیں ہائی الرٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں اپوزیشن کارکنان کی رپورٹوں کے مطابق البوکمال شہر اور اس کے مشرق میں دیہی علاقے میں ایرانی پاسداران انقلاب اور عراقی ملیشیا الحشد الشعبی کے زیر انتظام ملیشیائیں ہائی الرٹ حالت میں دیکھی جا رہی ہیں۔ دوسری جانب کرد اور عرب جنگجوؤں پر مشتمل سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) دریائے فرات کے مشرق میں ہجین شہر میں "داعش" تنظیم کے آخری گڑھ کے خلاف معرکہ آرائی میں مصروف ہے۔

شامی اپوزیشن کارکنان کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کے عناصر کو البوکمال اور اس کے مشرق میں دیہی علاقے میں تعینات کر دیا گیا ہے۔ عراقی سرحد سے 5 کلو میٹر کی دوری پر واقع دو شامی دیہات الہری اور السویعیہ میں عراقی ملیشیا الحشد الشعبی کے ساتھ مشترکہ طور پر چیک پوسٹس قائم کی گئی ہیں۔

گزشتہ ماہ ایس ڈی ایف نے بتایا تھا کہ ایرانی عسکری کمک دیر الزور صوبے کے اطراف واقع دیہی علاقے میں پہنچ چکی ہے تا کہ شام کے مشرق میں آئل فیلڈز کی جانب پیش قدمی عمل میں آ سکے۔ اس سے قبل تہران نے دیر الزور صوبے کے مشرق میں اپنی فورسز میں اضافہ کر دیا تھا۔ واضح رہے کہ بشار کی فوج نے گزشتہ برس مذکورہ علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔

ہجین کا علاقہ عراقی سرحد کے متوازی دیر الزور صوبے کے مشرقی دیہی علاقے میں "داعش" تنظیم کا آخری گڑھ ہے۔ یہ البوکمال شہر سے 35 کلو میٹر کی دُوری پر واقع ہے۔

امریکا کے زیر قیادت داعش تنظیم کے خلاف برسرِ جنگ بین الاقوامی اتحاد کے اندازے کے مطابق ہجین کے علاقے میں 2000 کے قریب شدت پسند موجود ہیں جن میں اکثریت غیر ملکیوں اور عرب باشندوں کی ہے۔

حالیہ منظرنامے کے مطابق اس علاقے میں ایران اور کرد گروپوں کے درمیان رسہ کشی جاری ہے۔ شام اور عراق کی سرحد کی مرکزی پوزیشن پر واقع ہونے کے باعث یہ علاقہ ایران کے لیے تزویراتی اہمیت رکھتا ہے۔