.

واشنگٹن کا ماسکو پر ادلب کی جنگ بندی سبوتاژ کرنے کی کوشش کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے روس پر الزام لگایا ہے کہ اُس نے کمزور جنگ بندی کو سبوتاژ کرنے کے واسطے اس کہانی کو گھڑنے میں مدد دی کہ شامی اپوزیشن گروپوں نے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا۔

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان روبرٹ بیلاڈینو نے جمعے کے روز جاری ایک بیان میں کہا کہ "امریکا یہ سمجھتا ہے کہ حلب میں 24 نومبر کو پیش آنے والے واقعے کے پیچھے روس اور شامی حکومت کا ہاتھ ہے ،،، اور وہ اس واقعے سے فائدہ اٹھا کر ادلب میں فائر بندی کے لیے قائم اعتماد کو برباد کرنا چاہتے ہیں"۔

روسی وزارت دفاع نے دعوی کیا تھا کہ شامی اپوزیشن نے 24 نومبر کو حلب میں کلورین سے بھرے ہوئے دستی بموں کا استعمال کیا۔ شام کے سرکاری میڈیا کے مطابق دم گھٹنے کے سبب تقریبا 100 شامی شہریوں کو ہسپتال میں داخل کیا گیا۔

ادھر واشنگٹن کا کہنا ہے کہ "باوثوق معلومات" کے مطابق یہ کہانی غلط ہے اور درحقیقت روسی فوج اور بشار کی فورسز نے آنسو گیس کا استعمال کیا۔

روبرٹ بیلاڈینو کے مطابق امریکا کو اس بات پر گہری تشویش ہے کہ واقعے کے فورا بعد بشار حکومت کے حامیوں نے حملے کی جگہ کو کنٹرول میں لے لیا ،،، اس طرح انہیں ممکنہ طور پر کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی کی تنظیم کی جانب سے مناسب تحقیقات سے قبل جائے مقام پر جعلی اور آلودہ نمونے پھیلانے کا موقع مل گیا۔

ترجمان نے مزید کہا کہ "ہم روس اور شامی حکومت کو خبردار کر رہے ہیں کہ وہ مشتبہ طور پر حملے کے مقام کے ساتھ کھلواڑ نہ کریں اور وہ غیر جانب دار خود مختار تفتیش کاروں کی سلامتی کی ضمانت دیں تا کہ ذمے دار عناصر کا احتساب ممکن ہو سکے"۔