.

حوثیوں کی مدد بھی سعودی عرب کا کچھ نہیں بگاڑ سکی: ایرانی عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے ایک سخت گیر مذہبی رہ نما اور رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ علی خامنہ ای کے مقرب مہدی طائب نے اعتراف کیا ہے کہ یمن میں حوثی باغیوں کی ہرممکن مدد کے باوجود ایران سعودی عرب کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق"عماریون" اسٹریٹیجک وارفیئرسینٹر کے چیئرمین مہدی طائب نے کہا کہ ایران کی خطے کے ممالک کو کمزور کرنے کے لیے مداخلت اور اپنے حامی گروپوں کی مدد کی پالیسی کارگر ثابت نہیں ہوسکی۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں ہم حوثیوں کے ذریعے سعودی عرب کی قومی سلامتی کونقصان پہنچانے کی کوشش کرتے رہے ہیں مگر ہم ایسا کرنے اور سعودیہ کی سلامتی کو نقصان پہنچاے میں ناکام رہے ہیں۔

مہدی طائب نے ان خیالات کا اظہار شیراز شہر میں باسیج فورس کے ایک اجلاس سے خطاب میں کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی فوج اور اس کی ملیشیائیں خود کو مقدس مقامات کے محافظ قرار دیتے ہیں اور اسی مقصد کے لیے خطے میں بڑے پیمانے پر انہیں پھیلایا گیا۔ شام اورعراق میں بڑی تعداد میں ہماری حامی ملیشیائیں موجود ہیں مگر ہم خطے کے ممالک بالخصوص سعودی عرب کو نقصان نہیں پہنچا سکے۔ حالات نے ثابت کیاہے کہ یہ علاقہ امام مہدی کے ظہور کے لیے غیر محفوظ ہے۔

خیال رہے کہ مہدی طائب نے اپریل 2017ء کو ایک بیان میں کہا تھا کہ یمن میں حوثی باغیوں کی امداد کا مقصد سعودی عرب کو کمزور کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حوثیوں کو میزائلوں کی فراہمی ایرانی بحریہ کی زیرنگرانی کی جاتی ہے اور پاسداران انقلاب بھی اس میں معاونت کرتی ہے۔