.

عراق : نوری المالکی کی توپوں کا رخ مقتدی الصدر کی جانب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں سابق وزیراعظم نوری المالکی نے الصدری گروپ کے سربراہ مقتدی الصدر کو شدید نکتہ چینی کا نشانہ بنایا ہے۔ ہفتے کے روز جاری ایک بیان میں انہوں نے وزارت داخلہ کے قلم دان کے لیے بطور نامزد امیدوار فالح الفیاض کو تبدیل کرنے سے انکار کر دیا۔

بیان میں نوری المالکی نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ اسٹیٹ آف لاء اتحاد کسی طور بھی "البناء" اتحاد (جس میں وہ خود بھی شامل ہیں) یہاں تک کہ وزیراعظم عادل عبدالمہدی کو بھی اس امر کی اجازت نہیں دیں گے کہ وزارت داخلہ کے لیے نامزد امیدوار فالح الفیاض یا بقیہ خالی وزارتوں کے لیے کسی بھی دوسرے نامزد امیدوار کو تبدیل کیا جائے۔

المالکی کے مطابق الفیاض کی تبدیلی اس بات کی دلیل ہے کہ "سائرون" گروپ کے عزائم کو غیر آئینی طریقے سے پارلیمنٹ اور حکومت پر مسلط کیا جا رہا ہے جو سیاسی عمل کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر الفالح کو پارلیمنٹ کے اکثر ارکان کی جانب سے ووٹ ملے تو اس کا مطلب ہے کہ اُن کو اس منصب کے لیے عوام نے چُنا۔

المالکی نے باور کرایا کہ آئین کے مطابق وزارتوں کو سنبھالنے کے لیے نامزد امیدواروں کا چُناؤ شورش اور دھمکیوں کے ذریعے نہیں بلکہ پارلیمنٹ کے اندر رائے شماری کے ذریعے ہوتا ہے۔

دوسری جانب اِفشا ہونے والی معلومات کے مطابق الفتح گروپ کے سربراہ ہادی العامری اور سائرون گروپ کے مرکزی حمایتی مقتدی الصدر کے درمیان مشاورت جاری ہے ،،، اور اس بات کی اطلاعات ہیں کہ العامری وزارت داخلہ کے منصب کے لیے الفیاض کو کسی دوسرے نامزد امیدوار سے تبدیل کرنے کے لیے آمادہ ہو گئے ہیں۔

ایک سیاسی ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ وزیراعظم عادل عبدالمہدی اور متعدد سیاسی جماعتوں اور گروپوں کے قائدین کے بیچ جمعے کے روز ہونے والے اجلاس کی فضا مثبت رہی۔ ذریعے کے مطابق عبدالمہدی ، البناء گروپ اور الاصلاح گروپ کے درمیان فالح الفیاض کو تبدیل کرنے پر موافقت سامنے آئی ہے۔ عبدالمہدی ابھی تک الفیاض کے متبادل امیدوار کے منتظر ہیں تا کہ دیگر بقیہ وزراء کے ناموں کے ساتھ ان سب کو پارلیمنٹ میں رائے شماری کے واسطے پیش کیا جائے۔

وزارت داخلہ کے منصب پر نامزدگی کے لیے ایران کے مقرب "فالح الفياض" کی نامزدگی کے حوالے سے عراق کی سیاسی جماعتوں اور گروپوں کے درمیان اختلاف میں شدت پیدا ہو گئی ہے۔

سائرون اتحاد کے رہ نما علی الخزعلی کا کہنا ہے کہ نوری المالکی عراق کے سیاسی میدان میں اپنی موجودگی کو مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سائرون اتحاد نوری المالکی کے موقف کو جواز کا حامل قرار دینے کا پابند نہیں۔