پاسداران انقلاب کا ایک عام سپاہی کیسے'ارب پتی' جنرل بنا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران میں مذہبی حکومت اور اس کے تمام اداروں میں اوپر سے نیچے تک ہرطرف کرپشن اور بدعنوانی کا دور دورہ ہے۔ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ سے ایک عام سپاہی تک ہرایک حسب توفیق کرپشن کررہا ہے۔

انسداد کرپشن کے عالمی دن کے موقع پر امریکی وزارت خارجہ نے اپنے "ٹوئٹر" اکائونٹ پر ایک ایسے ایرانی عہدیدار کی کرپشن کہانی بیان کی ہے جو ایک سپاہی سے کرپشن کی بدولت ارب پتی جنرل بن گیا۔

امریکی وزارت خارجہ کی طرف سے متعدد ٹویٹس پوسٹ کی گئی ہیں۔ جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں۔

انسداد بدعنوانی کے عالمی دن پر ایرانی عوام اپنی حکومت سے بہت مایوس ہیں کیونکہ ایرانی حکومت کرپٹ اور منافق لوگوں کا ٹولہ ہے۔

امریکی وزارت خارجہ نے ایران میں کرپشن کی مثال دیتے ہوئے صادق محصولی نامی ایک عہدیدار کا حوالہ دیا ہے اور اسے "ارب پتی جنرل" قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطاب محصولی پاسداران انقلاب سے تیل اور تعمیرات کے انتہائی منافع بخش ٹھیکے حاصل کرکے خوب مال کماتا رہاہے۔

امریکی وزارت خارجہ نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی کرپشن بھی طشت ازبام کی ہے اور لکھا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای ایک ایسے فنڈ کے مالک ہے جس میں ایرانی قوم کے ٹیکسوں سے حاصل کردہ رقم جمع کی جاتی ہے اور اس کا حجم اربوں ڈالر میں ہے۔

ارب پتی جنرل یعنی صادق محصورلی ایران میں کرپشن کی وجہ سے امیر ترین شخص بننے کی ایک بڑی مثال ہے۔ اس نے کرپشن اور لوٹ مار کے ذریعے دولت کے انبار جمع کیے۔

محصولی پاسداران انقلاب میں ایک عام سپاہی کے طورپر بھرتی ہوا۔ بعد ازاں اس نے اپنا شعبہ تبدیل کردیا اور سابق صدر محمود احمدی نژاد کے دور میں حکومت کا وزیر رہا۔ عراق۔ ایران جنگ کےدوران فوج میں‌بھرتی ہونے والا وہ ایک غریب سپاہی تھا مگر تیزی کے ساتھ ترقی کرتے ہوئے وہ سنہ 2005ء میں حکومت کا وزیر بنا اور اپنے سیاسی اور حکومتی منصب کو مال بٹورنے کے لیے بھرپور استعمال کیا۔ اس نے تیل اور تعمیراتی شعبے میں بڑے بڑے ٹھیکے لینا شروع کیے اور پاسداران انقلاب کی تیل اور تعمیراتی کمپنیوں کے ساتھ اپنا نیٹ ورک مضبوط کیا۔

سنہ 2010ء میں امریکا نے طلباء تحریک کو طاقت کے ذریعے کچلنے کے الزام میں محصولی پر پابندیاں عاید کیں۔

رواں سال جولائی میں امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے صادق محصولی کو ایران کے "مافیا" میں شامل کرتے ہوئے اس کی دولت کی تفصیلات بھی جاری کیں۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کے ارب پتی لیڈر اور ان کی کرپشن دنیا کے مافیائوں کے مشابہ ہے۔ ایران میں نام نہاد اسلامی انقلاب کے 40 سال کے دوران قومی املاک کا ایک مذہبی طبقے کے حکومت بچانے کے لیے بے دریغ استعمال کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں