.

مکارم شیرازی نے آیت اللہ سے ’’شکر کنگ‘‘ کا سفر کیسے طے کیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسداد بدعنوانی کے عالمی دن کی مناسبت سے امریکا نے ایرانی رجیم کی کرپشن بے نقاب کرتے ہوئے مفلوک الحال ایرانی عوام کو ان کی گردنوں پر مسلط ظالم حکومت کے حوالے سے با خبر کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے متعدد ٹویٹس میں ایرانی حکام کی کرپشن اور قومی وسائل پر قبضے کی تفصیلات بیان کی جا رہی ہیں۔

دو روز قبل امریکی وزارت خارجہ کے "ٹویٹر" اکائونٹس پر ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی نام نہاد سادگی کا پردہ چاک کیا گیا اور بتایا گیا کہ مقدس ہستی گردانے جانے والے آیت اللہ علی خامنہ نے ایک فنڈ کے نام پر قوم کے اربوں ڈالر لوٹ رکھے ہیں۔

ایرانی رجیم کی اس کرپشن رام کہانی کے کرداروں میں ایک نام آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی کا ہے۔ وہ ایران میں مذہبی مکتب فکر کی درسگاہ حوزہ الدینیہ کے ایک استاد تھے مگر ان کی پہچان ایک مدرس کے بجائے چینی کے ایک بڑے سوداگر کے طور پر کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے انہیں 'شکر کا سلطان' کہا جاتا ہے۔

ایران کے اس نام نہاد مذہبی اور منافق ٹولے میں مکارم شیرازی نیا اضافہ نہیں۔ ان جیسی کئی اور مقدس ہستیاں ایرانی عوام کے وسائل پر مسلط ہیں۔ مکارم شیرازی نے بھی چینی کے ٹھیکوں سے غریب عوام کے کروڑوں ڈالر لوٹے۔ اپنی مرضی سے چینی قیمت میں بے پناہ اضافہ کرکے عوام کی جیبیں خالی کیں۔ اس شعبے میں شیرازی کی اجارہ داری کے بعد بہت سے لوگوں کو اپنی ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑے اور بعض تاجروں نے پے در پے کے بعد کام ہی چھوڑ دیا۔

خیال رہے کہ علامہ مکارم شیرازی کے شکر کے ٹھیکوں میں صافی منافع کی مالیت 100 ملین ڈالر سے زیادہ ہے۔