.

حضرت عیسٰی کے گستاخانہ خاکے شائع کرنے کے الزام میں دو صحافی گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن کی پولیس نے دو صحافیوں کو حراست میں لیا ہے۔ ان پرایک ویب سایٹ پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے گستاخانہ خاکے شائع کرنے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق اردن کے پراسیکیوٹر جنرل نے صحافیوں محمد الوکیل اور ان کے ایک معاون ایڈیٹر کو حضرت مسیح علیہ السلام کی توہین آمیز تصاویر شائع کرنے پر حراست میں لینے کا حکم دیا۔ سوشل میڈیا پر اس خبر کے پھیلنے کے بعد عوام میں سخت غم وغصہ کی فضا پائی جا رہی ہے۔

ایک مقامی عدالتی ذریعے کے مطابق ملزمان کو ایک ہفتے کے جوڈیشل ریمانڈ پر حراست میں لیا گیا ہے۔ جرم ثابت ہونے پر انہیں 6 ماہ سے تین سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ عوامی حلقوں‌ نے ان پر فرقہ واریت کو ہوا دینے اور مذہبی منافرت پھیلانے کے الزام میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ اردن کے ایک صحافی کی "الوکیل الاخباری" ویب سایٹ نے ایک صفحے پر اطالوی آرٹیسٹ لیونارڈو دا فینشی کی ایک تصویر شائع کی جس میں ایک ترک شیف نصرت گوکشیہ کو حضرت مسیح کی پشت پر کھڑے دکھایا گیا۔ تصویر میں‌ حضرت مسیح کے سامنے کھانا رکھا گیا ہے اور ترک شیف ان کے کھانے میں نمک چھڑک رہا ہے۔